صفحات

اتوار، 17 جنوری، 2016

عصر حاضر میں علوم حدیث پر لکھی گئی کتابیں


• قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث: للشيخ محمد جمال الدين القاسمي.
• توجيه النظر إلى أصول أهل الأثر: للعلامة طاهر الجزائري.
• الوسيط في علوم الحديث: للعلامة محمد بن محمد أبوشهبة. وهو أنفس كتب الحديث الذي كتبت في عصرنا الحاضر.
• تيسير مصطلح الحديث: للأستاذ محمود الطحان. هو من أسهل وأحسن الكتب في مصطلح الحديث، راعى فيه مؤلفه الفاضل مستوى الطلاب المبتدئين.
• تحرير علوم الحديث: للشيخ عبد الله بن يوسف الجديع. بنى فيه المؤلف تحرير أصول هذا العلم على طريق السلف المتقدمين.
• منهج النقد في علوم الحديث: للشيخ نورالدين عتر. يتميز هذا الكتاب بحسن التقسيم والتفصيل.
• معجم المصطلحات الحديثية: للشيخ نورالدين عتر. وهو أول معجم وضع في مصطلح الحديث، وكان نبراسا للذين وضعوا المعاجم على غراره بعده.
• معجم مصطلحات الحديث ولطائف الأسانيد: للدكتور ضياء الرحمن الأعظمي.
• معجم علوم الحديث النبوي: للدكتور عبد الرحمن بن إبراهيم الخميسي. هو من أحسن وأكمل المعاجم من حيث حسن الترتيب والمادة العلمية.
• إمعان النظر في توضيح نخبة الفكر: شرح بسيط للشيخ محمد أكرم بن عبد الرحمن السندي.
• مقدمة في أصول الحديث: للمحدث عبد الحق الدهلوي.
• العجالة النافعة: للشيخ عبد العزيز بن ولي الله الدهلوي.
• منهج الوصول في اصطلاح الرسول(بالفارسية) للسيد صديق حسن خان القنوجي.
• الرفع والتكميل في الجرح والتعديل: للإمام عبد الحي اللكنوي.
• ظفر الأماني بشرح مختصر السيد الشريف الجرجاني في مصطلح الحديث: للإمام عبد الحي اللكنوي. هذا كتاب حفيل العلم، جليل القدر، وعلق نفيس جم الفوائد، رفيع الذكر، من أواخر ماألفه الإمام اللكنوي.
• موسوعة علوم الحديث وفنونه. للسيد عبد الماجد الغوري.

(فضل الرحمن محمود)

1 تبصرہ:


  1. شاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔

    تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
    "انفاس العارفین" میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف غلیظ سازش اور کفر ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔

    قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
    یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .



    تفاسیر کا جہنم.....
    تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب، جلالین ، ابن کثیر ،
    قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
    تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
    دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر ہیں ۔


    حدیث ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہزاروں کوفی، بصری، بغدادی، خراسانی، ایرانی زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔
    اس جنگل میں ماہر شکاری کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ۔
    یہ روایت "فتنہ انکار قرآن" کی ابتدا ہے۔
    اگر ابوحنیفه، مالک، شافعی، ابن حنبل، اوزاعی، زید، جعفر صادق اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کریں کہ گدھے، خنزیر اور ہاتھی کا پاخانہ کھایا جائے تو کیا تمام دیوبندی، اہل حدیث، سلفی، شیعوں کو کھانا چاہیے؟ حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، شفیع عثمانی، احمد رضا بریلوی ان غلیظ روایتوں کو کیسے منظور کر سکتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں