"زُجاجة المصابيح" مولانا عبداللّٰہ بن مظفر حسین حیدرآبادی رحمھما اللّٰہ (متوفی 1384ھ) کی تالیفِ لطیف ہے، جس میں "مشکوۃ المصابیح" کے طرز پر احکام ومسائل سے متعلق علمائے احناف کے مستدلات جمع کیے گئے ہیں، البتہ "مشکوۃ" کے برخلاف اس میں ہر باب کی ایک ہی فصل قائم کی گئی ہے، مؤلف کا اسلوب یہ ہے کہ وہ باب کی ابتدا میں متعلقہ آیات واحادیث، پھر ان سے مستنبط احکام، اختلافِ ائمہ، اسباب وعللِ اختلاف، دلائلِ حنفیہ، ان کی وجوہ ترجیح، اور دیگر احادیث وآثار سے ان کی تائید بیان کرتے ہیں، مذھب کے دائرے میں رہتے ہوئے مختلف فیھا مسائل میں راجح ومفتی بہ اقوال کو بنیاد بناتے ہیں، احادیث میں اولاً ان احادیث کو لاتے ہیں جو ترجمۃ الباب پر مطابقتاً دلالت کرتی ہیں، پھر تضمنی اور التزامی دلائل ذکر کرتے ہیں.
اس کتاب کے متعلق مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللّٰہ نے کہا تھا:
"إن هذا التاليف المستطاب من ذكريّات هذا العصر الجديد ومآثره، إذ هو أهم الكتب التي ألفت في فن الحديث، فجزاه اللّٰه خيرا".
مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللّٰہ کا تبصرہ ہے کہ:
"اس کتاب کے ذریعے قصرِ حدیث میں باقی رہ جانے والا ایک خلا پُر ہوا ہے".
مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللّٰہ کے بقول:
"مؤلف نے اس کتاب کے ذریعے علمائے احناف کے ذمے کا ہزار سالہ قرض چکایا ہے".
شامی عالم ومحدث شیخ عبدالفتاح ابوغدۃ رحمہ اللّٰہ نے مؤلف کے نام ایک خط میں کتاب کے متعلق لکھا ہے:
"فاستنار بصري وبصيرتي، فجزاكم اللّٰه عن الإسلام والسادة الحنفية أفضل الجزاء".
علاوہ ازیں مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللّٰہ نے بھی ایک ریویو نما وقیع تبصرہ قلم بند کیا ہے، جو غالبا "صدق" میں شائع ہوا تھا.
مذکورہ تفصیل سے فقہ حنفی میں کتاب کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے، اسی لیے مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللّٰہ نے "مشکوۃ" کے ساتھ "زجاجۃ" کو داخلِ نصاب کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اس کے باوجود اسے کماحقہ پذیرائی نہیں مل سکی، پہلی بار یہ کتاب 1361ھ میں حیدرآباد دکن سے طبع ہوئی تھی، پھر پاکستان میں مکتبہ خیریہ کوئٹہ سے 1422ھ میں چھپی، کافی عرصے سے کمیاب ہوجانے کی بنا پر اس کی عمدہ طباعت کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی، تاکہ استفادے کا دائرہ وسیع ہو، مسرت انگیز خبر ہے کہ اس علمی ضرورت کا درست ادراک کرتے ہوئے ملک کے معروف طباعتی ادارے مکتبۃ البشری کراچی نے چار جلدوں میں یہ کتاب شائع کردی ہے، امید ہے کہ ان شاء اللّٰہ جلد ہی عام دسترس میں آجائے گی.
(ابو الحسن الطالب)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں