صفحات

اتوار، 10 جنوری، 2016

وزیرستان کے رسوم ورواج کا شرعی قوانین کے ساتھ موازنہ اور پشتونوں کی تاریخ

پروگرام: تقریب رونمائی
کتاب:     وزیرستان کے رسوم ورواج کا شرعی قوانین کے ساتھ موازنہ اور پشتونوں کی تاریخ.
مصنف: ڈاکٹر تاج محمد وزیر
مقام  :  اسلام آباد ہوٹل

اظہار خیال کے چند نکات.

¤ قانون سازی اجتماعی شعور کی بنیاد پر ہوتی ہے

¤ قانون سازی سے پہلے سماج کے اجتماعی شعور کو جرم کے معاملے میں حساس بنانا پڑتا ہے. سماج کو حساس بنانے کا ذریعہ صرف اور صرف مکالمہ ہے.

¤ سماج جب تک جرم کے معاملے میں حساس نہ ہوجائے تب تک ریاست کے پاس قانون سازی کا اخلاقی جواز نہیں ہوتا.

¤ رسالت مآب نے قانون سازی سے پہلے سماج کو جرائم کے معاملے میں حساس کیا.

¤ قوانین میں عربوں کے رواج سے استفادہ تو ویسے بھی کیا ہی گیا، جیسے دیت کا قانون قبائلی روایات سے لیا گیا. 

¤ جن معاملات میں سماج حساس نہ ہوا ان معاملات میں بھی قبائلی روایات و رواجات کو باقی رکھا گیا. اس کی متعدد مثالیں ہیں.

¤ روایات کو قانون کے ساتھ نتھی کرنا دراصل ایک سماجی دباو کا تقاضا ہوتا ہے. اس دباو جیسی حقیقت کو نظر انداز کر دینے سے بغاوت جنم لیتی ہے.

¤ ہمارے ہاں سیاسی حوالے سے ریاست اور قبائل کے بیچ ایک کشمکش رہی ہے. اس کشمکش کی بنیاد ہی یہ رہی کہ ریا ستی نمائندے کبھی قبائلی روایات کا ادراک اور اس کا احترام نہیں کر سکے.

¤ نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والا خلفشار بارہ برسوں کو اسی لیئے محیط ہوا کہ وزیرستان کے معاملے پہ تجزیئے اور فیصلے کا اختیار ان لوگوں کے پاس تھا جنہیں کبھی پشاور میں نمکین تکہ تک کھانے کا بھی اتفاق نہیں ہوا تھا.

¤ ڈاکٹر تاج وزیر کی کتاب اس حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کا ہر صفحہ قبائل کے الجھے ہوئے دھاگے کو پوری تحقیق کے ساتھ سلجھاتا ہے.
فرنود عالم

1 تبصرہ:


  1. شاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔

    تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
    "انفاس العارفین" میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف غلیظ سازش اور کفر ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔

    قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
    یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .



    تفاسیر کا جہنم.....
    تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب، جلالین ، ابن کثیر ،
    قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
    تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
    دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر ہیں ۔


    حدیث ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہزاروں کوفی، بصری، بغدادی، خراسانی، ایرانی زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔
    اس جنگل میں ماہر شکاری کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ۔
    یہ روایت "فتنہ انکار قرآن" کی ابتدا ہے۔
    اگر ابوحنیفه، مالک، شافعی، ابن حنبل، اوزاعی، زید، جعفر صادق اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کریں کہ گدھے، خنزیر اور ہاتھی کا پاخانہ کھایا جائے تو کیا تمام دیوبندی، اہل حدیث، سلفی، شیعوں کو کھانا چاہیے؟ حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، شفیع عثمانی، احمد رضا بریلوی ان غلیظ روایتوں کو کیسے منظور کر سکتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں