صفحات

جمعرات، 4 فروری، 2016

فتنہ انکارِ حدیث سے متعلق لکھی گئ چار کتابیں


1: شوقِ حدیث:
اس کتاب میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ امت مسلمہ کے محسنین، حضراتِ محدثین کرام رحمھم اللہ کا مبارک اور نورانی تذکرہ کیا گیا ہے اور حدیث کے علم کو حاصل کرنے کے لئے ان کی جد و جہد، محنت و قربانی، ان کی قوت حافظہ اور صحیح و ضعیف احادیث کو جدا کرنے کے لئے ان کی دیانت و محنت کا ایمان افروز اور سرور انگیز تذکرہ کیا گیا ہے نیز چمگادڑ مزاج منکرینِ حدیث کے ان پر اور علمِ حدیث پر اٹھائے گئے بوگس اور فضول اعتراضات کی بھی جابجا خبر لی گئی ہے۔

2:. احسان الباری:
یہ کتاب بخاری شریف کے ابتدائی مقامات کی درسی تقاریر پر مشتمل ہے اور اس کے مقدمہ میں نہایت قیمتی اور ایمان افروز مباحث ہیں جن میں حجیتِ حدیث کے قرآن سے دس اور حدیث سے آٹھ دلائل، منکرین حدیث کے حدیث پر متعدد اعتراضات اور ان کے کئی کئی جوابات، خبرِ واحد کی حجیت، خبر متواتر کی قطعیت وغیرہ کی نفیس اور معطر ابحاث ہیں جو دیکھنے ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔

3: صرف ایک اسلام:
مشہور منکرِ حدیث ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب نے انکارِ حدیث پر "دو اسلام" نامی کتاب لکھی تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کا اسلام اور ہے اور حدیث کا اسلام کوئی اور ہے، نیز ہمارے محترم ڈار صاحب اور ان کے بے دام وکیل صاحبزادہ ضیاء صاحب کی طرح متعدد احادیث پر اپنی جہالت و کج فہمی اور خبثِ باطن کی بناء پر بے سر وپا اعتراض وارد کرکے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی ناروا سعی کی تھی... دادا جان رحمہ اللہ نے، جب وہ 1953 کی تحریک ختم نبوت میں مجاہدانہ حصہ لینے کی پاداش میں سنٹرل جیل ملتان میں قید کاٹ رہے تھے، یہ کتاب اس حالت میں لکھی کہ پاس کوئی اور کتاب موجود نہ تھی. اور بفضلہ تعالی اس میں برق صاحب کے مختلف احادیث پر چھتیس اعتراضات کے مسکت و مدلل اور شافی و کافی جواب دئیے. نیز ان کی مختلف تضاد بیانیوں کو بھی جابجا آشکارا کیا... بحمدہ تعالی یہ کتاب جناب برق صاحب کے حق میں پیغامِ ہدایت ثابت ہوئی اور بعد میں انہوں نے اپنے غلط اور گمراہ کن مذہب سے توبہ کرکے پھر خود حجیتِ حدیث پر کتاب لکھی، ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء... اللہ تعالی آج کل کے پڑھے لکھے جاہلوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائیں.

4: انکارِ حدیث کے نتائج.
برصغیر میں جن لوگوں نے انکارِ حدیث کا پرچم اٹھایا وہ گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتے بھٹکتے کہاں تک پہنچے، کن کن کھائیوں میں گرے، کن کن پستیوں تک پہنچے اور دین اسلام کی ایک ایک بات کا کس کس طرح انکار کیا، یہ دردناک و عبرت ناک داستان اگر پڑھنی ہو تو اس کتاب کو پڑھئیے، اس کتاب کو پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ حدیث کا انکار کرکے انسان اس قدر خبطی ہوجاتا ہے کہ بالآخر قرآن کی بھی ایک ایک بات کو اپنی ٹیڑھی اور موٹی عقل کے بل بوتے پر رد کرنے کی جسارت کرنے لگتا ہے۔

(احسن خدامی)

2 تبصرے:

  1. متحدہ ہندوستان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں متعدد فتنے پیدا ہوئے، اکبر کا دین الٰہی، امروہہ، لکھنؤ اور رام پور کا شیعہ مذہب، بریلویہ، دیوبندیہ، سلفیہ، قادیانیہ وغیرہ جیسے منکر القرآن فرقے متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ لاکھوں صوفی، عقل سے دور درجنوں مجدد، مہدی قسم کے لوگ مشہور ہوئے اور سادہ لوح لوگوں نے ان کی پیروی کی۔
    یو پی کا بریلوی مذھب، یو پی اور دہلی کا دیوبندی مذھب، پنجاب اور دھلی کا اہل حدیث مذھب، گورداسپور اور لدھیانہ کا قادیانی مذھب، تفصیلی بحث کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ادھوری رہے گی۔

    متحدہ ہندوستان فرقہ پرستوں کا گھر تھا، جہاں ایک سے بڑھ کر ایک فسادی تھا۔

    جواب دیںحذف کریں

  2. شاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔

    تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
    "انفاس العارفین" میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف غلیظ سازش اور کفر ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔

    قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
    یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .



    تفاسیر کا جہنم.....
    تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب، جلالین ، ابن کثیر ،
    قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
    تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
    دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر ہیں ۔


    حدیث ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہزاروں کوفی، بصری، بغدادی، خراسانی، ایرانی زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔
    اس جنگل میں ماہر شکاری کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ۔
    یہ روایت "فتنہ انکار قرآن" کی ابتدا ہے۔
    اگر ابوحنیفه، مالک، شافعی، ابن حنبل، اوزاعی، زید، جعفر صادق اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کریں کہ گدھے، خنزیر اور ہاتھی کا پاخانہ کھایا جائے تو کیا تمام دیوبندی، اہل حدیث، سلفی، شیعوں کو کھانا چاہیے؟ حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، شفیع عثمانی، احمد رضا بریلوی ان غلیظ روایتوں کو کیسے منظور کر سکتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں