مرسل روایات کی قبولیت یا عدم قبولیت فقہا۶ ومحدثین کے مابین ایک معروف اختلافی بحث ہے۔ فقہائے احناف اور مالکیہ اس حوالے سے بہت توسع رکھتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مراسیل کو ترک کر دینے سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ایک بہت بڑے حصے کو نظر انداز کر دینا لازم آتا ہے۔
اصولی بحث سے قطع نظر، اس ضمن میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ائمہ احناف نے جن مرسل روایات پر اپنے فقہی موقف کی بنیاد رکھی، وہ محدثین کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں بھی بحیثیت مجموعی قابل استناد ہیں۔ امام مالک نے جن مراسیل سے استدلال کیا ہے، ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور موطا پر محدثین نے ہمہ جہت تحقیقی کام کر کے اس پہلو کو بہت واضح کر دیا ہے۔ البتہ ائمہ احناف کے مستدلات پر اس نوعیت کا زیادہ کام دیکھنے کو نہیں ملتا۔
بہرحال، گفٹ یونیورسٹی میں ہمارے ایک عزیز اور لائق دوست محمد عثمان لیاقت نے میری نگرانی میں کچھ عرصہ قبل امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الآثار میں منقول مراسیل پر اپنی تحقیق مکمل کی ہے جس پر انھیں ایم فل کی ڈگری ایوارڈ کی گئی ہے۔ محقق نے کتاب الآثار میں مروی جملہ مراسیل کا مختلف پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد حسب ذیل نتائج تحقیق پیش کیے ہیں:
کتاب الآثار میں کل اکیاون مراسیل نقل کی گئی ہیں جو پچیس تابعین سے منقول ہیں اور ان میں سب سے زیادہ روایات امام ابراہیم نخعی کی روایت کردہ ہیں جن کی تعداد سترہ ہے۔
پچیس تابعین میں سے چھ کبار تابعین ہیں جن سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے۔ متوسط تابعین کی تعداد سات اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے، جبکہ صغار تابعین کی تعداد بارہ اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد اکتیس ہے۔
ان پچیس میں سے صرف دو یعنی حکم بن زیاد اور عبد الکریم بن ابی المخارق پر ائمہ جرح وتعدیل نے جرح کی ہے، جبکہ باقی سب راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔
اکیاون مراسیل میں سے پانچ کے علاوہ، باقی سب کے شواہد اور مویدات ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں۔ یوں یہ روایات ان محدثین کے اصول کے مطابق بھی قابل استدلال ہیں جو اصولاً مرسل کو قبول نہیں کرتے۔
جن پانچ مراسیل کے شواہد بظاہر میسر نہیں، ان میں سے صرف ایک روایت کے راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، جبکہ باقی چاروں راوی علی بن الاقمر، علی بن حسین بن زین العابدین، محمد بن سوقہ اور ابراہیم نخعی جلیل القدر اور ثقہ تابعین ہیں۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے: محمد عثمان لیاقت، ’’کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)
(عمار خان ناصر)