#صدرحدیثا
علامہ مصطفی بن عبداللہ عثمانی معروف بہ "ملا کاتب چلپی" یا "حاجی خلیفہ" (1017ھ _ 1068ھ) علوم وفنون اور کتب کے تعارف سے متعلق شہرہ آفاق کتاب "کشف الظنون عن أسامي الکتب والفنون" سے جانے پہچانے جاتے ہیں، حال ہی میں مشاہیرِ امت کے تراجم کے بارے میں ان کی کتاب "سلم الوصول إلی طبقات الفحول" پہلی بار چھے جلدوں میں ترکی سےچھپی ہے.
اس بلاگ میں مختلف کتب , رسائل و جرائد کا تعارف , نقد و تبصره یا ان سے متعلقه مواد کی اشاعت پیش نظر هے. مقصد ذوق کتاب بینی ,معلومات میں اضافه اور مطالعے پر ابھارنے کا سامان کرناهے.
جمعرات، 11 فروری، 2016
سلم الوصول إلی طبقات الفحول
بدھ، 10 فروری، 2016
دنیا کی مہنگی ترین کتابیں
نعیم احمد
دنیا کی مہنگی ترین کتابوں کی فہرست میں سب سے پہلا نام ہے ’’کوڈیکس لیسٹر‘‘ (Codex Leicester) کا اور یہ کتاب لیونارڈو ڈاونچی کی سائنسی تحریروں پر مشتمل ہے۔ لیونارڈو کے 30 سائنسی رسالوں میں سے کوڈیکس سب سے مشہور ہے۔ پہلی بار ایک انگریز رئیس لینڈ لارڈ ٹامس کاک (Thomas Coke) نے 1719ء میں یہ نادر دستاویز خریدی۔ ٹامس کاک کو ’’ارل آف لیسٹر‘‘ کا خطاب ملا، تو اسی مناسبت سے کتاب کا نام بھی کوڈیکس لیسٹر پڑگیا۔11 نومبر 1994ء کو معروف سوفٹ ویئر کمپنی مائیکروسوفٹ کے مالک بل گیٹس نے نیویارک میں فائن آرٹس آکشن ہائوس ’’کرسٹیز‘‘ (Christie's) سے یہ کتاب تین کروڑ آٹھ لاکھ دوہزار پانچ سو (30,802,500) ڈالر میں خریدی اور اس طرح کوڈیکس لیسٹر دنیا کی مہنگی ترین کتاب بن گئی۔پاکستانی روپوں میں اس کی مالیت سوا تین ارب روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔ دوسری مہنگی ترین کتاب ’’میگنا کارٹا‘‘ (Magna Carta) ہے، جسے ’’گریٹ چارٹر آف دی لبرٹیز آف انگلینڈ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ دراصل اینجوین (Angevin) چارٹر ہے، جسے جون 1215ء میں لاطینی زبان میں جاری کیا گیا۔ 1219ء میں اسے مقامی فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور تیرہویں صدی میں تبدیل شدہ ورژن میں اس کا دوبارہ اجرا کیا گیا۔ 1225ء میں پہلی بار اس چارٹر کا قانون پاس ہوا۔1297ء کا ورژن طویل لاطینی عنوان، جسے انگریزی میں ’’دی گریٹ چارٹر آف لبرٹیز آف انگلینڈ، اینڈ آف دی لبرٹیز آف فاریسٹ‘‘ کہتے ہیں، کے ساتھ اب بھی انگلینڈ اور ویلز میں قانونی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ایڈورڈ (I) کی شاہی مہر کی حامل ہاتھ سے لکھی ہوئی 1297ء کی صرف ایک کاپی نجی ہاتھوں میں ہے۔ یہ کاپی پانچ سو سال تک بروڈنل (Brudenell) خاندان یعنی ارلز آف کارڈیگن (Earls of Cardigan)کے پاس رہنے کے بعد 1984ء میں پیروٹ فائونڈیشن کے پاس فروخت ہوئی اور فائونڈیشن نے 18 دسمبر 2007ء کو یہ کاپی دو کروڑ تیرہ لاکھ (21,300,000) ڈالر میں نیلام کردی۔اسے کارلائل گروپ کے ڈیوڈ روبن سٹائن (David Rubenstein)نے خریدا۔ اسی طرح لاطینی زبان میں لکھی ہوئی، ساتویں صدی عیسوی کی پاکٹ گوسپیل بُک ’’سینٹ کتھ برٹ گوسپیل‘‘ (St Cuthbert Gospel) اپریل 2012ء میں ایک کروڑ تینتالیس لاکھ (14,300,000) ڈالر میں، 1640ء میں برٹش نارتھ امیریکا میں پرنٹ ہونے والی پہلی کتاب ’’بے سام بُک‘‘ (Bay Psalm Book) نومبر 2013ء میں ایک کروڑ بیالیس لاکھ (14,200,000) ڈالر میں، 1500-20 ء کے دوران کئی آرٹسٹوں کی بنائی ہوئی تصاویر سے مزین فلیمش بُک آف آورز ’’روتھس چائلڈ پریئر بک‘‘ (Rothschild Prayerbook) جولائی 1999ء میں ایک کروڑ چونتیس لاکھ (13,400,000) ڈالر میں اور 1175ء کی ’’گوسپیلز آف ہنری دی لائین‘‘ (Gospels of Henry the Lion) کی اصلی اور اکلوتی کاپی دسمبر 1983ء میں ایک کروڑ سترہ لاکھ (11,700,000) ڈالر میں فروخت ہوئی۔ مہنگی ترین کتابوں میں آٹھویں نویں اور دسویں نمبر پر آنے والی کتاب کا نام ’’دی برڈز آف امیریکا‘‘ (The Birds of America) ہے۔ نیچرلسٹ اور پینٹر جان جیمز اوڈبان (John James Audubon) کی یہ کتاب 1827ء سے 1838ء کے دوران پہلی بار لندن سے شائع ہوئی اور یہ امریکی پرندوں کی وسیع ورائٹی کی السٹریشنز پر مشتمل ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس کتاب کی صرف 119 مکمل کاپیاں باقی بچی ہیں، جن میں سے تین بالترتیب دسمبر 2010ء میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ (11,500,000) ڈالر ، 2000ء میں اٹھاسی لاکھ (8,800,000) ڈالر اور جنوری 2012ء میں اناسی لاکھ (7,900,000) ڈالر میں فروخت ہوئیں۔ جدید کتابوں میں ’’آف اے فائر آن دی مون‘‘ (Of a Fire on the Moon) نامی کتاب کی 12 کاپیاں ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ سو (112,500) ڈالر فی کاپی کے حساب سے فروخت ہوئیں۔ یہ کتاب ’’لائف‘‘ میگزین میں قسط وار شائع ہوئی اور یہ 1969 ء میں چاند پر بھیجے گئے اپالو مشن کے بارے میں نورمن میلر (Norman Mailer) کے منفرد نکتہ نظر پر مشتمل اہم ڈاکومینٹری سمجھی جاتی ہے۔ ہائوسٹن میں مشن کنٹرول اور سپیس سنٹر میں وقت گزارنے اور کیپ کینیڈی فلوریڈا سے اپنی آنکھوں سے سیٹرن V راکٹ کی اڑان دیکھنے کے بعد میلر نے اس سفر کی روئیداد لکھنی شروع کی جوکہ اگست 1969 ء سے جنوری 1970ء کے دوران تین طویل قسطوں میں ’’اے فائر آن دی مون‘‘، ’’سائیکالوجی آف آسٹروناٹس‘‘ اور ’’اے ڈریم آف کی فیوچرز فیس‘‘کے نام سے شائع ہوئی۔یہ کتاب اس لئے مہنگی نہیں کہ اس میں چاند پر جانے کی کہانی رقم ہے بلکہ یہ اس لئے مہنگی ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے علاوہ آپ اس کے ساتھ چاند کو چھو بھی سکتے ہیں۔ 2009ء میں 40 ویں سالگرہ چاند کی تسخیر کے سال کی مناسبت سے اس کتاب کی 1969ء کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔ ان میں سے 12 کاپیوں کے ساتھ شہابیوں کے ٹکڑے فراہم کئے گئے، جو چاند سے زمین پر پہنچے ہیں۔ عام کتاب کی قیمت 1000 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جبکہ چاند کے ٹکڑے کے ساتھ اس کی قیمت بھی آسمان پر پہنچ گئی۔ کتاب کی ہر کاپی پر مشن مون کے ہیرو بز ایلڈرن کے دستخط ہیں اور اس کے ساتھ چاند پر کھڑے ہوکر لی گئی ان کی یادگار فریم شدہ تصویر بھی ہے، جس میں ان کے وائزر میں آرمسٹرانگ کا عکس نظر آرہا ہے۔ کتاب کی کل 1969 کاپیوں میں سے 1957 کاپیاں آن لائن فروخت کے لئے دستیاب ہوئیںجبکہ حتمی 12 کاپیوں کے لئے پبلشر ایک ویٹنگ لسٹ تیار کی۔ ماہرین نے 12 کاپیوں کے ساتھ فراہم کئے جانے والے چاند کے ٹکڑوں کی پیشہ ورانہ انداز میں جانچ پڑتال بھی کی۔واضح رہے کہ ایک ہزار میں سے صرف ایک شہابیہ چاند سے زمین کی سطح پر پہنچتا ہے۔ یہ ٹکڑے چاند سے ایسٹرائیڈز یا کومٹس ٹکرانے کے نتیجے میں 5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نکلتے ہیں اور زمین کے دائرہ کشش میں آنے سے پہلے ہزاروں لاکھوں سالوں تک سپیس میں منڈلا سکتے ہیں۔ انٹارکٹکا اور صحارا جیسے علاقوں سے حاصل کئے گئے ،ایسے شہابیوں کی تصدیق ان کی معدنی ترکیب یا منرل کمپوزیشن کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ جانچ میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ان میں اور ناسا کے جمع کردہ نمونوں میں کیا فرق ہے۔
- See more at: http://m.dunya.com.pk/index.php/special-feature/2016-02-10/14815#sthash.j58oUBaH.dpuf
جمعرات، 4 فروری، 2016
فتنہ انکارِ حدیث سے متعلق لکھی گئ چار کتابیں
1: شوقِ حدیث:
اس کتاب میں نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ امت مسلمہ کے محسنین، حضراتِ محدثین کرام رحمھم اللہ کا مبارک اور نورانی تذکرہ کیا گیا ہے اور حدیث کے علم کو حاصل کرنے کے لئے ان کی جد و جہد، محنت و قربانی، ان کی قوت حافظہ اور صحیح و ضعیف احادیث کو جدا کرنے کے لئے ان کی دیانت و محنت کا ایمان افروز اور سرور انگیز تذکرہ کیا گیا ہے نیز چمگادڑ مزاج منکرینِ حدیث کے ان پر اور علمِ حدیث پر اٹھائے گئے بوگس اور فضول اعتراضات کی بھی جابجا خبر لی گئی ہے۔
2:. احسان الباری:
یہ کتاب بخاری شریف کے ابتدائی مقامات کی درسی تقاریر پر مشتمل ہے اور اس کے مقدمہ میں نہایت قیمتی اور ایمان افروز مباحث ہیں جن میں حجیتِ حدیث کے قرآن سے دس اور حدیث سے آٹھ دلائل، منکرین حدیث کے حدیث پر متعدد اعتراضات اور ان کے کئی کئی جوابات، خبرِ واحد کی حجیت، خبر متواتر کی قطعیت وغیرہ کی نفیس اور معطر ابحاث ہیں جو دیکھنے ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔
3: صرف ایک اسلام:
مشہور منکرِ حدیث ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب نے انکارِ حدیث پر "دو اسلام" نامی کتاب لکھی تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کا اسلام اور ہے اور حدیث کا اسلام کوئی اور ہے، نیز ہمارے محترم ڈار صاحب اور ان کے بے دام وکیل صاحبزادہ ضیاء صاحب کی طرح متعدد احادیث پر اپنی جہالت و کج فہمی اور خبثِ باطن کی بناء پر بے سر وپا اعتراض وارد کرکے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی ناروا سعی کی تھی... دادا جان رحمہ اللہ نے، جب وہ 1953 کی تحریک ختم نبوت میں مجاہدانہ حصہ لینے کی پاداش میں سنٹرل جیل ملتان میں قید کاٹ رہے تھے، یہ کتاب اس حالت میں لکھی کہ پاس کوئی اور کتاب موجود نہ تھی. اور بفضلہ تعالی اس میں برق صاحب کے مختلف احادیث پر چھتیس اعتراضات کے مسکت و مدلل اور شافی و کافی جواب دئیے. نیز ان کی مختلف تضاد بیانیوں کو بھی جابجا آشکارا کیا... بحمدہ تعالی یہ کتاب جناب برق صاحب کے حق میں پیغامِ ہدایت ثابت ہوئی اور بعد میں انہوں نے اپنے غلط اور گمراہ کن مذہب سے توبہ کرکے پھر خود حجیتِ حدیث پر کتاب لکھی، ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء... اللہ تعالی آج کل کے پڑھے لکھے جاہلوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائیں.
4: انکارِ حدیث کے نتائج.
برصغیر میں جن لوگوں نے انکارِ حدیث کا پرچم اٹھایا وہ گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتے بھٹکتے کہاں تک پہنچے، کن کن کھائیوں میں گرے، کن کن پستیوں تک پہنچے اور دین اسلام کی ایک ایک بات کا کس کس طرح انکار کیا، یہ دردناک و عبرت ناک داستان اگر پڑھنی ہو تو اس کتاب کو پڑھئیے، اس کتاب کو پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ حدیث کا انکار کرکے انسان اس قدر خبطی ہوجاتا ہے کہ بالآخر قرآن کی بھی ایک ایک بات کو اپنی ٹیڑھی اور موٹی عقل کے بل بوتے پر رد کرنے کی جسارت کرنے لگتا ہے۔
(احسن خدامی)
جمعہ، 29 جنوری، 2016
امام ابن ماجہ اور علمِ حدیث
مولانا محمد عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ
تبصرہ: ماہر القادری
فاران جولائی 1961ء
نوٹ: تبصرہ کے تمام مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں.
"مولانا عبدالرشید نعمانی ایک ثقہ اور وسیع المطالعہ عالم ہیں، جن کا قلم علمِ دین کی خدمت کے لئے وقف ہے! یہ کتاب ان کی گراں قدر تالیف ہے، جس میں "عہدِ رسالتؐ سے لے کر امام ابن ماجہ کے زمانہ تک کی تاریخِ تدوینِ حدیث اور امام ممدوح کی "کتابِ سنن ابن ماجہ" پر تفصیلی تبصرہ ملتا ہے۔
اس کتاب میں امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوانحِ زندگی کے علاوہ ان کی مشہور کتاب "سنن ابنِ ماجہ" پر بڑی تفصیل اور سیر حاصل بحث ہے، ساتھ ہی قزوین، مکہ معظمہ، کوفہ، بصرہ، بغداد، واسط، سامراء، دمشق، حمص، عسقلان، رملہ، ایلہ، بیت المقدس، مصر، رقہ، حران، الواز، رئے، اصفہان، ہمدان، وافغان، نیشاپور اور بلخ وغیرہ شہروں کے علمائے حدیث کے مختصر حالات درج ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حدیث کیا ہے؟ اور اس کی دینی حیثیت کیا ہے؟ کتابتِ حدیث، حفظِ حدیث اور تدوینِ حدیث کب ہوئی اور کس طرح ہوئی؟ علمِ حدیث کی طلب و جستجو میں مشاہیر اور شیوخ نے کتنی محنتیں کیں اور کیسے کیسے طویل سفر کئے؟
کتاب کے آخری ابواب یہ ہیں:
"سننِ ابن ماجہ کی نمایاں خصوصیات"
"صحت کے اعتبار سے ابنِ ماجہ کا درجہ"
"ابنِ ماجہ کے تلامذہ"
اور
"سننِ ابنِ ماجہ پر شروح و تعلیقات"
حضرت امام ابوحنیفہ ہوں یا حضرت امام بخاری، ان میں سے کوئی بھی معصوم نہ تھا، مگر غالی اہلِ حدیث کو امام ابوحنیفہ پر طنز کرنے اور متشدد احناف کو امام بخاری کی غلطیاں پکڑنے سے خاص شغف رہا ہے، اس کی جابجا جھلکیاں اس کتاب میں ملتی ہیں۔۔۔ مثلاً:
"۔۔۔امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم نے تاریخ و رجال کے تاریخی اوہام کے سلسلہ میں امام بخاری کی بہت سی غلطیاں نکالی ہیں، حافظ ابن ابی حاتم نے امام بخاری کے تاریخی اوہام پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے:"أخطاء البخاری"
اور
"۔۔۔۔۔بخاری نے ان کے یہاں اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ قرآن پاک کے جو الفاظ ان کے منہ سے نکلتے ہیں وہ مخلوق ہیں، تو ان دونوں حضرات (امام ابوحاتم اور ابوزرعہ) نے بخاری کی حدیث کو ترک کردیا۔" (بحوالہ کتاب الجرح و التعدیل)
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ "کتاب الآثار" کے بعد حدیث کا دوسرا صحیح مجموعہ جو اس وقت امت کے ہاتھوں میں موجود ہے، وہ امام دارالہجرۃ مالک بن انس کی مشہور تصنیف موطا ہے۔۔" اس صورت میں فاضل مولف کے لکھنے کے مطابق "صحیح امام بخاری" نہ جانے احادیث کے کتنے مجموعوں کے بعد کی کتاب قرار پاتی ہے۔
"یہ واضح رہے کہ ضعیف روایتیں سنن ابن ماجہ ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں، فرق اتنا ہے کہ ان میں کم ہیں اور اس میں زیادہ ہیں، اور ان کتابوں کو جو "صحاح ستہ" کہا جاتا ہے محض تغلیباً ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی ہر روایت صحیح ہے۔" (صفحہ241)
"صحیح بخاری" کے بارے میں قریب قریب یہی بات مولانا مودودی نے کسی تقریر میں کہہ دی تھی تو اہلِ حدیث کے بعض رسالوں اور اخبارو ں میں ان کے خلاف ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔
فاضل مولف نے لکھا ہے کہ اس غلط فہمی میں ملاجیون، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے اکابر مبتلا ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ کی سرے سے کوئی کتاب ہی موجود نہیں ہے، موصوف نے ثابت کیا ہے کہ "کتاب الآثار" امام ابوحنیفہ کی تصنیف ہے۔
مولانا عبدالرشید نعمانی نے علمائے حدیث کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام مالک کی موطا کو صحیحین پر ترجیح ہے، اس لئے کہ امام مالک کی خصوصیت ہے کہ وہ کسی بدعتی سے خواہ وہ کیسا ہی پاک باز اور راست باز ہو حدیث کی روایت کے روادار نہیں، برخلاف اس کے صحیحین میں مبتدعین کی روایات (بشرطیکہ وہ ثقہ اور صادق اللہجہ ہوں) بکثرت موجود ہیں۔"
"۔۔۔۔لیکن اس سلسلہ میں شاہ صاحب (ولی اللہ) کے قلم سے بعض ایسی باتیں نکل گئی ہیں جو خلاف واقعہ ہیں۔۔۔"(صفحہ180)
وفات پائے ہوئے اسلاف اور بزرگوں کے تسامحات پر نقد و احتساب کی اس جرءت سے اگر اخلاف عام طور پر کام لیتے تو امت بہت سی غلط فہمیوں بلکہ فتنوں سے محفوظ رہتی۔
فاضل مؤلف نے بڑی تحقیقی بات کہی ہے کہ :
"غرض ابھی دوسری صدی ختم نہ ہونے پائی تھی کہ علمِ حدیث میں بکثرت تصانیف مدون ہو کر شائع ہوچکی تھیں اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے تلامذہ نے تمام عالم اسلام کو فقہ و حدیث سے معمور کردیا تھا، اسی صدی میں فقہ حنفی اور فقہ مالکی کی تدوین احادیث و آثار کی روشنی میں مکمل ہوئی۔۔۔یہ وہ زمانہ ہے کہ امام بخاری اور مسلم اور دوسرے مصنفینِ صحاحِ ستہ بھی پیدا نہیں ہوئے تھے اربابِ صحاحِ ستہ نے بیشتر انہی دونوں اماموں کے تلامذہ یا تلامذہ کے تلامذہ سے علم حدیث کی تحصیل کی۔"(ص198)
کوئی شک نہیں یہ کتاب علمی مواد اور تحقیق کے اعتبار سے اپنے موضوع پر گراں قدر اور بلند پایہ ہے، جس سے عوام و خواص سبھی استفادہ کرسکتے ہیں!".
بشکریہ پیج "ماھر القادری"
منگل، 26 جنوری، 2016
عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر
''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر'' مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کی اصول تفسیر پر ایک مایہ ناز شرح ہے، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصول تفسیر پر عربی میں ایک شہرہ آفاق اور مقبول عام تصنیف ہے جس کی اردو شرح ”عون الخبیر“ کے نام سے 713 صفحات پر مشتمل 2005ء میں شائع ہو کر منظر عام پر آئی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اردوزبان میں الفوز الکبیر کی اتنی تفصیلی اور ضخیم شرح پہلی بار شائع ہوئی ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا،یہ اصل میں مفسر قرآنؒ کی وہ تقریر ہے جو طلباء کرام کو پڑھاتے وقت ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لی گئی تھی جسے بعد میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر کے اہل علم، طلباء و معلمین کے استفادہ کیلئے ادارہ نشرو اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے، الفوز الکبیر صدیوں سے تمام مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں شامل ہے، اس کی شرح کی اشاعت کو اہل علم کے ہاں بے حد قدر کی نگا ہ سے دیکھا گیا ہے ــــــــــــ
آنلائن پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے کلک کیجیے.
زُجاجة المصابيح
"زُجاجة المصابيح" مولانا عبداللّٰہ بن مظفر حسین حیدرآبادی رحمھما اللّٰہ (متوفی 1384ھ) کی تالیفِ لطیف ہے، جس میں "مشکوۃ المصابیح" کے طرز پر احکام ومسائل سے متعلق علمائے احناف کے مستدلات جمع کیے گئے ہیں، البتہ "مشکوۃ" کے برخلاف اس میں ہر باب کی ایک ہی فصل قائم کی گئی ہے، مؤلف کا اسلوب یہ ہے کہ وہ باب کی ابتدا میں متعلقہ آیات واحادیث، پھر ان سے مستنبط احکام، اختلافِ ائمہ، اسباب وعللِ اختلاف، دلائلِ حنفیہ، ان کی وجوہ ترجیح، اور دیگر احادیث وآثار سے ان کی تائید بیان کرتے ہیں، مذھب کے دائرے میں رہتے ہوئے مختلف فیھا مسائل میں راجح ومفتی بہ اقوال کو بنیاد بناتے ہیں، احادیث میں اولاً ان احادیث کو لاتے ہیں جو ترجمۃ الباب پر مطابقتاً دلالت کرتی ہیں، پھر تضمنی اور التزامی دلائل ذکر کرتے ہیں.
اس کتاب کے متعلق مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللّٰہ نے کہا تھا:
"إن هذا التاليف المستطاب من ذكريّات هذا العصر الجديد ومآثره، إذ هو أهم الكتب التي ألفت في فن الحديث، فجزاه اللّٰه خيرا".
مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللّٰہ کا تبصرہ ہے کہ:
"اس کتاب کے ذریعے قصرِ حدیث میں باقی رہ جانے والا ایک خلا پُر ہوا ہے".
مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللّٰہ کے بقول:
"مؤلف نے اس کتاب کے ذریعے علمائے احناف کے ذمے کا ہزار سالہ قرض چکایا ہے".
شامی عالم ومحدث شیخ عبدالفتاح ابوغدۃ رحمہ اللّٰہ نے مؤلف کے نام ایک خط میں کتاب کے متعلق لکھا ہے:
"فاستنار بصري وبصيرتي، فجزاكم اللّٰه عن الإسلام والسادة الحنفية أفضل الجزاء".
علاوہ ازیں مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللّٰہ نے بھی ایک ریویو نما وقیع تبصرہ قلم بند کیا ہے، جو غالبا "صدق" میں شائع ہوا تھا.
مذکورہ تفصیل سے فقہ حنفی میں کتاب کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے، اسی لیے مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللّٰہ نے "مشکوۃ" کے ساتھ "زجاجۃ" کو داخلِ نصاب کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اس کے باوجود اسے کماحقہ پذیرائی نہیں مل سکی، پہلی بار یہ کتاب 1361ھ میں حیدرآباد دکن سے طبع ہوئی تھی، پھر پاکستان میں مکتبہ خیریہ کوئٹہ سے 1422ھ میں چھپی، کافی عرصے سے کمیاب ہوجانے کی بنا پر اس کی عمدہ طباعت کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی، تاکہ استفادے کا دائرہ وسیع ہو، مسرت انگیز خبر ہے کہ اس علمی ضرورت کا درست ادراک کرتے ہوئے ملک کے معروف طباعتی ادارے مکتبۃ البشری کراچی نے چار جلدوں میں یہ کتاب شائع کردی ہے، امید ہے کہ ان شاء اللّٰہ جلد ہی عام دسترس میں آجائے گی.
(ابو الحسن الطالب)
پیر، 25 جنوری، 2016
درود و سلام
درود و سلام کے عظیم اور مبارک موضوع پر لکھی گئی چند اہم اور مشھور کتابیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: أنوار الآثار المختصة بفضل الصلاة على النبي المختار
• المؤلف: أحمد بن معد بن عيسى الأقليشي أبو العباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع (ت: عوامة)
• المؤلف: محمد بن عبد الرحمن السخاوي
• المحقق: محمد عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: الصلات والبشر في الصلاة على خير البشر
• المؤلف: محمد بن يعقوب الفيروزآبادي مجد الدين
• المحقق: محمد نور الدين عدنان الجزائري - عبد القادر الخياري - محمد مطيع الحافظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم معانيها أحكامها فضائلها
• المؤلف: عياض
• المحقق: محمد عثمان الخشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم
• المؤلف: عبد الحميد بن باديس
• المحقق: أبو عبد الرحمن محمود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: مسالك الحنفا الى مشارع الصلاة على المصطفى (ط. العلمية)
• المؤلف: أحمد بن محمد بن أبي بكر القسطلاني أبو العباس
• المحقق: حسين بن عكاشة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: فضل الصلاة على خاتم الأنبياء صلى الله عليه وسلم من (بدائع الفوائد) و(جلاء الأفهام)
• المؤلف: ابن قيم الجوزية
• المحقق: صالح أحمد الشامي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: الإعلام بفضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والسلام
• المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن علي النميري
• المحقق: حسين محمد علي شكري
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم (ت: الألباني)
• المؤلف: إسماعيل بن إسحاق القاضي الجهضمي
• المحقق: محمد ناصر الدين الألباني
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: الخير الكثير في الصلاة والسلام على البشير النذير
• المؤلف: شعبان بن محمد الموصلي الشافعي أبو سعيد
• المحقق: أحمد سعد الدين عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
• عنوان الكتاب: رسالة أوقات الصلاة عن النبي صلى الله عليه وسلم
• المؤلف: تقي الدين الهلالي المغربي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم وضاحت : یہ تمام کتب مکتبہ وقفیہ کے گوشہ بنام : الاذکار و الشعائر میں موجود ہیں ۔۔ شائقین وہاں جا کر انہیں ڈانلوڈ کر سکتے ہیں :
http://waqfeya.com/index.php
(مدثر جمال)