پیر، 11 جنوری، 2016

مکانه الکتاب

قال شيخ شيوخنا العلامة عبد الفتاح أبو غدة رحمه الله تعالى:

"الكتاب في حياة العالم تحل منه محل الروح من الجسد والعافية من البدن وهي مع هذه المنزلة العالية والحب الشديد في قلب العالم، تكون عند بعض الزوجات أنكى من الضرة، وآلم من الصداع الدائم للرأس".

(صفحات من صبر العلماء؛ ص:256)

اتوار، 10 جنوری، 2016

وزیرستان کے رسوم ورواج کا شرعی قوانین کے ساتھ موازنہ اور پشتونوں کی تاریخ

پروگرام: تقریب رونمائی
کتاب:     وزیرستان کے رسوم ورواج کا شرعی قوانین کے ساتھ موازنہ اور پشتونوں کی تاریخ.
مصنف: ڈاکٹر تاج محمد وزیر
مقام  :  اسلام آباد ہوٹل

اظہار خیال کے چند نکات.

¤ قانون سازی اجتماعی شعور کی بنیاد پر ہوتی ہے

¤ قانون سازی سے پہلے سماج کے اجتماعی شعور کو جرم کے معاملے میں حساس بنانا پڑتا ہے. سماج کو حساس بنانے کا ذریعہ صرف اور صرف مکالمہ ہے.

¤ سماج جب تک جرم کے معاملے میں حساس نہ ہوجائے تب تک ریاست کے پاس قانون سازی کا اخلاقی جواز نہیں ہوتا.

¤ رسالت مآب نے قانون سازی سے پہلے سماج کو جرائم کے معاملے میں حساس کیا.

¤ قوانین میں عربوں کے رواج سے استفادہ تو ویسے بھی کیا ہی گیا، جیسے دیت کا قانون قبائلی روایات سے لیا گیا. 

¤ جن معاملات میں سماج حساس نہ ہوا ان معاملات میں بھی قبائلی روایات و رواجات کو باقی رکھا گیا. اس کی متعدد مثالیں ہیں.

¤ روایات کو قانون کے ساتھ نتھی کرنا دراصل ایک سماجی دباو کا تقاضا ہوتا ہے. اس دباو جیسی حقیقت کو نظر انداز کر دینے سے بغاوت جنم لیتی ہے.

¤ ہمارے ہاں سیاسی حوالے سے ریاست اور قبائل کے بیچ ایک کشمکش رہی ہے. اس کشمکش کی بنیاد ہی یہ رہی کہ ریا ستی نمائندے کبھی قبائلی روایات کا ادراک اور اس کا احترام نہیں کر سکے.

¤ نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والا خلفشار بارہ برسوں کو اسی لیئے محیط ہوا کہ وزیرستان کے معاملے پہ تجزیئے اور فیصلے کا اختیار ان لوگوں کے پاس تھا جنہیں کبھی پشاور میں نمکین تکہ تک کھانے کا بھی اتفاق نہیں ہوا تھا.

¤ ڈاکٹر تاج وزیر کی کتاب اس حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کا ہر صفحہ قبائل کے الجھے ہوئے دھاگے کو پوری تحقیق کے ساتھ سلجھاتا ہے.
فرنود عالم

مولنا احمد رضا خان بریلوی صاحب کے چند رسائل

والضحی پبلکشنز لا ہور سے مولنا احمد رضا خان بریلوی صاحب کے رسائل کی فہرست چھپی ہے ،جو فتوی رضویہ میں مختلف مقامات پر موجود ہیں ،اس میں بعض رسائل کے نام بڑے عجیب ہیں ،جس سے آنجناب کی جلای طبیعت   ،درشت مزاج  اور مخالفین کے لیے تیغ بے نیام  کی عکاسی ہوتی ہے ۔اگر چہ یہ  موصوف (اللہ ان پر رحم کرے )کی ذہانت اور جودت طبع کی علامت بھی ہے ۔
۱۔الجبل الثانوی علی کلیۃ التانوی یعنی تھانوی کے گردے پر دوسرا پہاڑ ۔یہ رسالہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے رد میں ہے ۔اس پس منظر شاید وہ خواب ہے جو حضرت کے ایک مرید نے حضرت کو سنایا کہ خواب میں لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ پڑھتا ہوا دیکھا ۔
۲۔السھم الشہابی علی خداع الوھابی یعنی وہابی کے دھوکے پر شعلے برساتا ہوا تیر ،یہ ایک غیر مقلد عالم کے رد میں ہے ،اس کا پس منظر شاید یہ بنا تھا کہ ایک غیر مقلد عالم مولوی رحیم بخش نےغیر مقلدین کو اہلحدیث کہنے پر کچھ لکھا تھا ،یہ اس کا رد ہے ۔
۳۔القمع المبین لامال المکذبین یعنی جھٹلانے والوں کی امیدوں کا قلع قمع کرنا  ۔۔۔۔یہ مسئلہ امکان کذب پر مشتمل ہے
۴۔الکوکبۃ الشہابیہ فی کفریا ت ابی الوہابیہ
یہ شاہ اسمعاعیل شہید رحمہ اللہ  کے رد میں لکھا ہوا ہے
۵۔النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التلقلید یعنی دشمنان تقلید کے پیچھے نماز پڑھنے کی سمخت ممانعت
۶۔النیر الشہابی علی تدلیس الوہابی
یہ بھی غیر مقلد حضرات کے رد میں ہے
۷۔اہلاک الوہابیین علی توہین قبور المسلمین
۸۔حجۃ الحین علی نذیر حسین ،مولنا نذیر حسین دہلو ی صاحب کے رد میں ہے ۔
۹۔دو صد تازیانہ بر فرق جہول زمانہ زمانے کے دو سو جاہل فرقوں پر دو سو کوڑے
۱۰۔ رامی زاغیاں یعنی کوے والوں پر تیر برسانے والا یہ حضرت گنگوہی کے رد میں ہے ،جس کا پس منظر کوے کی کچھ اقسام کی حلت و حرمت کا فقہی مسئلہ ہے ۔
۱۱۔سل السیوف الھندیہ علی کفریات بابا النجدیہ یہ رسالہ بھی حضرت شاہ اسماعیل شہید کے رد میں ہے ۔
۱۲۔مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید
نوٹ۔امید ہے کہ بریلوی دوست اس بات پر چیں بہ جبیں نہ ہونگے ۔اس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ہندوستان میں اہلسنت کی تین بڑے مکاتب ۔بریلوی ،دیوبندی اور اہلحدیث میں تقسیم اور ایک صدی کی متنوع جھگڑوں کے دیگر اسباب میں سے ایک اہم سبب اس طرح کے سخت رویے بھی تھے ۔ماضی سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے ،ایسا نہ ہو کہ ہم اگلی نسلوں کو اپنے درشت اسلوب سے ایک صدی مزید تقسیم  اور لڑائیوں کے دلدل میں  پھنسا دیں ۔

(سمیع الله سعدی)

جمعہ، 8 جنوری، 2016

دوائے شافی

’دوائے شافی‘حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق تالیف ہے جس میں بیمار وکج رو قلوب واذہان کی اصلاح ،شرک وبدعات میں لتھڑے انسانوں کی ہدایت ،معصیات سے زنگ آلود دلوں کی پالش اور عشق معشوقی میں گھرے لوگوں کی راہنمائی کا بہترین سامان ہے کہ ان تمام گناہوں کو کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔پھر قرآن وحدیث کی تعلیمات اور عقلی دلائل سے گناہوں اور معصیات سے بچاؤ کے مؤثر طریقے بتائے گئے ہیں۔جن سے راہنمائی لے کر انسان گناہوں ،گمراہیوں اور دل کی موت سے یقینی بچ سکتا ہے۔کیونکہ جسم انسانی کا معتبر عضو دل ہے جس کی بقا وحیات ہی سے رشد وہدایت اور دین سے لگاؤ ممکن ہے ۔لہذا اصلاح نفس اور دل کی طہارت ونفاست اور گناہوں سے بچاؤ کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہے

کتاب کا ڈاونلوڈ لنک:

احیاء العلوم, المستصفی, مقالات احسانی, الکلام

میں نے 1966 میں دورہ حدیث کے سال احیاء علوم الدین کا بالاستیعاب مطالعہ کیا تھا ۔ اس دوران میں احیاء کی موضوع اور ضعیف روایات کے سبب حسن عقیدت پیدا نہ ہوسکی ۔بعد میں المستصفی پڑھی لیکن حنفی منہج اصول فقہ سے تعلق کی وجہ سے اس سے بھی مناسبت پیدا نہ ہوئ ۔ مولانا مناظر احسن گیلانی کی مقالات احسانی کی وجہ سے غزالی سے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے البتہ شبلی نعمانی کی الکلام اور علم الکلام نے مجھے حیرت زدہ کر دیا جس میں انہوں نے غزالی کی خفیہ دستاویزات شائع کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ غزالی برائے خواص مختلف تھے اور برائے عوام مختلف ۔
کیا کسی محقق نے شبلی کی اس تحقیق پر نقد وتبصرہ کیا ھے ؟
(ڈاکٹر طفیل هاشمی)

مسئلہ سود

جناب احمد جاوید:

مولانا مودودی کا مسئلہ سود، اس کتاب کا بڑا فائدہ اوربڑی برکت یہ ہے کہ اس سے مسلمان کو یہ پتا چل جاتا ہے کہ سود حرام ہے۔ بس۔ بلاسودی معیشت ایک نظام کے طو رپر کیسے چلے گا؟ اس کی کوئی رہنمائی ہے اس کتاب میں؟ سرمایہ دارانہ capitalistic سودی معیشت کی متبادل معیشت کے ضروری خدوخال اور ورکنگ پیپر ہے اس کتاب میں ؟ یا کسی بھی عالم کی کتاب میں؟ اس طرح تھوڑی ہوتا ہے۔ ایڈم اسمتھ کو پڑھیں تو آپ کو کیپٹلزم کی بائبل نظر آجائے گی۔ تو بلاسودی معیشت اپنی ورک ایبل حالت میں کہاں ہے؟ پھر یہ کہ کسی بھی مسلمان ملک میں کسی بھی اسلامی مملکت کہلانے والے ملک میں بلاسودی نظام معیشت سرے سے موجود نہیں ہے۔ تو اس کا کیا سبب ہے؟ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ علماءکے ذہن میں معیشت کا نظام بنانے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ وہ موجودہ معیشت کے دروبست کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ کیپٹلزم کا سامنا کرکے معیشت کا ایک ڈھانچہ بنانے کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ وہ بس ہوا میں احکام کی سطح پر بات کررہے ہیں کہ یہ حکم قرآن میں ہے، یہ حکم حدیث میں ہے، یہ حکم اخلاقی طور پر ضروری ہے۔ اخلاق بھی کتابی، قرآن و حدیث بھی کتابی۔ یہ سارے احکام اپنی تعاملی صورتوں میں ایک نظام کو چلانے والے کیسے بنیں گے؟ یہ سب کچھ بھی نہیں ہے۔’’
(عمار خان ناصر)

بھکاری مصنف

پیرس میں  ایک بھکاری نے اپنے معمولات پر کتاب لکھ کر شہرت حاصل کر لی

اِس کتاب کی چالیس ہز ار سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور اِسے ’بیسٹ سیلر‘ کتابوں میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ روگول کی عمر سینتالیس برس ہے اور اُسے احساس ہے کہ وہ دس مہینوں کے بعد اپنی کتاب کی بعد از فروخت رائلٹی وصول کرنے لگے گا۔
(خبر)