پیر، 25 جنوری، 2016

درود و سلام

درود و سلام کے عظیم اور مبارک موضوع پر لکھی گئی چند اہم اور مشھور کتابیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: أنوار الآثار المختصة بفضل الصلاة على النبي المختار
•   المؤلف: أحمد بن معد بن عيسى الأقليشي أبو العباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع (ت: عوامة)
•   المؤلف: محمد بن عبد الرحمن السخاوي
•   المحقق: محمد عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: الصلات والبشر في الصلاة على خير البشر
•   المؤلف: محمد بن يعقوب الفيروزآبادي مجد الدين
•   المحقق: محمد نور الدين عدنان الجزائري - عبد القادر الخياري - محمد مطيع الحافظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم معانيها أحكامها فضائلها
•   المؤلف: عياض
•   المحقق: محمد عثمان الخشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم
•   المؤلف: عبد الحميد بن باديس
•   المحقق: أبو عبد الرحمن محمود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: مسالك الحنفا الى مشارع الصلاة على المصطفى (ط. العلمية)
•   المؤلف: أحمد بن محمد بن أبي بكر القسطلاني أبو العباس
•   المحقق: حسين بن عكاشة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: فضل الصلاة على خاتم الأنبياء صلى الله عليه وسلم من (بدائع الفوائد) و(جلاء الأفهام)
•   المؤلف: ابن قيم الجوزية
•   المحقق: صالح أحمد الشامي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الإعلام بفضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والسلام
•   المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن علي النميري
•   المحقق: حسين محمد علي شكري
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم (ت: الألباني)
•   المؤلف: إسماعيل بن إسحاق القاضي الجهضمي
•   المحقق: محمد ناصر الدين الألباني
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الخير الكثير في الصلاة والسلام على البشير النذير
•   المؤلف: شعبان بن محمد الموصلي الشافعي أبو سعيد
•   المحقق: أحمد سعد الدين عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: رسالة أوقات الصلاة عن النبي صلى الله عليه وسلم
•   المؤلف: تقي الدين الهلالي المغربي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم وضاحت : یہ تمام کتب مکتبہ وقفیہ کے گوشہ بنام : الاذکار و الشعائر میں موجود ہیں ۔۔ شائقین وہاں جا کر انہیں ڈانلوڈ کر سکتے ہیں :
http://waqfeya.com/index.php

(مدثر جمال)

اتوار، 24 جنوری، 2016

ملتے جلتے ناموں والی کچھ کتب

بعض ایسی کتابیں جن کے نام ملتے جلتے ہیں اور بسا اوقات ان کے تعارف میں اشتباہ سا ہو جاتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 : الإمام في بيان أدلة الأحكام
المؤلف: أبو محمد عز الدين عبد العزيز بن عبد السلام بن أبي القاسم بن الحسن السلمي الدمشقي ، الملقب بسلطان العلماء
(المتوفى: 660هـ(

2 : الإلمام بأحاديث الأحكام
المؤلف: تقي الدين أبو الفتح محمد بن علي بن وهب ابن دقيق العيد
ولد سنة 625 ه ۔ توفي (بالقاهرة) سنة 702 ه

3 : شرح الإلمام بأحاديث الأحكام
المؤلف: تقي الدين ابن دقيق العيد

4 : الإلمام بمسائل الإعلام / تأليف الشيخ أحمد بن عبد الرازاق المغربي الرشيدي الشافعي ۔ وهو تهذيب كتاب الإعلام بقواطع الإسلام للهيثمي

5 : الإلمام ببعض آيات الأحكام (تفسيراً واستنباطاً) –
مؤلف : محمد بن صالح العثيمين

6 : الإلمام بغزل الفقهاء الأعلام
تأليف: غازي القصيبي

7 : الإحكام في أصول الأحكام
المؤلف: علي بن محمد الآمدي

8 : الإحكام في أصول الأحكام
المؤلف: علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي أبو محمد

(مدثر جمال تونسوی)

معرفت تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن

مولانا وحید الدین صاحب کی کتاب معرفت   تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن عمدہ کتاب ھے ۔اس میں جو بات مجھے گھائل کر گئ وہ یہ کہ اللہ کے سامنے اپنی بے بسی کا یقین و اظہار ہی سب سے بڑی متاع بندگی ھے   اور کیوں نہ ہو کہ بے بسی اور عاجزی ہی وہ متاع ھے جو اللہ کے پاس نہیں اور جب کسی کو ایسا تحفہ پیش کیا جائے جو اس کے پاس نہ ہو تو اس کی قدر افزائ میں کوئ کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی ۔
البتہ مجھے الجھن یہ ہوئ کہ معرفت اور ایمان کا باہمی کیا تعلق ھے ۔قرآن نے یہود کے بارے میں کہا ھے کہ یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم لیکن یہ معرفت ایمان نہیں تھی علم تو معرفت کا نچلا درجہ ھے  غالبا ایمان کا درجہ معرفت سے اوپر کا ھے یعنی ترتیب صعودی یہ ہوگی
   جاننا   یعنی علم
پہچاننا یعنی معرفت
ماننا یعنی ایمان

(ڈاکٹر طفیل هاشمی)

الموافقات

امام شاطبی کی "الموافقات" سے عہد جدید میں فقہ اسلامی کی روح کے سمجھنے میں بہت فائدہ اٹھایا گیا ہے. انگریزی میں اس حوالے سے لکھی گئی تحریریں اس کتاب کی اہمیت واضح کرتی ہیں. مصر میں محمد عبدہ اسے اپنے طلبہ کو خصوصی طور پر تجویز کرتے تھے. مولانا مودودی ر ح  نے غالبا سب سے پہلے اسے اردو زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا. اسلامی یونیورسٹی کے اصول فقہ کے نامور فاضل ڈاکٹر عمران احسن خان نیازی نے اسے انگریزی میں منتقل کیا ہے جو ابھی نظر سے نہیں گزرا لیکن محترم ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کا کہنا ہے کہ عمدہ ترجمہ ہے. نیازی صاحب جیسے لوگ پاکستان میں رہ کر وہی کام کر رہے ہیں جو عرب دنیا میں ڈاکٹر جمال الدین عطیہ جیسے لوگ کر رہے ہیں.نامور اہل حدیث عالم مولانا عبد الرحمان کیلانی ر ح نے اس کتاب کو اردو میں منتقل کیا تھا لیکن یہ ترجمہ معنی خیز نہیں ہے اور کتاب کے مشکل مقامات کے سمجھنے میں زیادہ معاون نہیں.  یوسف حامد العالم کی مقاصد شریعت پر کتاب کو محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب نے اردو میں منتقل کیا ہے اور اس میں شاطبی کے اقتباسات کو جس عمدگی سے اردوایا ہے وہ ان کی شاطبی فہمی کی دلیل ہے. محترم عمار صاحب اس کتاب کی شریعہ اکیڈمی میں تدریس کرتے تھے لیکن افسوس ہے ان دروس کی ریکارڈنگ نہیں ہو سکی ورنہ وہ عمار صاحب کی اعلا لیاقت و لباقت کا ثبوت ہوتے. کاش ان کی سطح کا کوئی فاضل اسے عبد اللہ دراز جیسے عمدہ حواشی کے ساتھ اردو کا جامہ پہنا دے. بندے کا قرآنی دراسات سے تعلق ہے. شاطبی کی اس کتاب کی دوسری جلد میں علوم قرآنی سے متعلق مباحث عام کتابوں میں نہیں ملتے اور عمدہ ہیں.

(سید متین احمد)

کتاب العروج سے ایک اقتباس

کتاب العروج

گیرارڈ کے ترجموں نے اہل مغرب کو علم و فن کی ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا۔ جلد ہی یورپ کے مختلف اطراف و اکناف سے علم کے شائقین طلیطلہ پہنچنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ انگلستانی عالم Daniel of Morley جب اکتشافی علوم کی تلاش میں پیرس پہنچا تو اسے سخت مایوسی ہوئی۔ بالآخر اس نے طلیطلہ کا رخ کیا۔ عالمِ عیسائیت میں طلیطلہ کے علماء کے علمی دبدبے کا یہ عالم تھا کہ 1158ء میں یہودی عالم ابراہیم بن عزرا جب طلیطلہ سے لندن پہنچا تو اس کی یہ آمد انگلستان اور اس کے قرب و جوار میں Astrology کو قبولیت تامہ عطا کرنے کا سبب بن گئی۔ لاطینی کے علاوہ فرانسیسی اور مختلف یورپی زبانوں میں اس کی درجنوں چھوٹی بڑی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ کسی نے اس فن کی علمی بنیاد پر محاکمے کی ضرورت کم ہی محسوس کی۔ مسلمانوں کا علم ہو یا ان کا فکری التباس، ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے عیسائی یورپ کے لئے یہ سب کچھ لائق تقلید سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ مغربی مصنفین اپنی کتابوں کی ابتداء بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے لاطینی ترجمے سے کیا کرتے، جیسا کہ Roger of Hereford کی تصنیف Liber De Division Astronomiae سے اندازہ ہوتا ہے۔

''کتاب العروج، ص94''

(راشد شاز)

منگل، 19 جنوری، 2016

کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، (مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)

مرسل روایات کی قبولیت یا عدم قبولیت فقہا۶ ومحدثین کے مابین ایک معروف اختلافی بحث ہے۔ فقہائے احناف اور مالکیہ اس حوالے سے بہت توسع رکھتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مراسیل کو ترک کر دینے سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ایک بہت بڑے حصے کو نظر انداز کر دینا لازم آتا ہے۔

اصولی بحث سے قطع نظر، اس ضمن میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ائمہ احناف نے جن مرسل روایات پر اپنے فقہی موقف کی بنیاد رکھی، وہ محدثین کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں بھی بحیثیت مجموعی قابل استناد ہیں۔ امام مالک نے جن مراسیل سے استدلال کیا ہے، ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور موطا پر محدثین نے ہمہ جہت تحقیقی کام کر کے اس پہلو کو بہت واضح کر دیا ہے۔ البتہ ائمہ احناف کے مستدلات پر اس نوعیت کا زیادہ کام دیکھنے کو نہیں ملتا۔

بہرحال، گفٹ یونیورسٹی میں ہمارے ایک عزیز اور لائق دوست محمد عثمان لیاقت نے میری نگرانی میں کچھ عرصہ قبل امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الآثار میں منقول مراسیل پر اپنی تحقیق مکمل کی ہے جس پر انھیں ایم فل کی ڈگری ایوارڈ کی گئی ہے۔ محقق نے کتاب الآثار میں مروی جملہ مراسیل کا مختلف پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد حسب ذیل نتائج تحقیق پیش کیے ہیں:

کتاب الآثار میں کل اکیاون مراسیل نقل کی گئی ہیں جو پچیس تابعین سے منقول ہیں اور ان میں سب سے زیادہ روایات امام ابراہیم نخعی کی روایت کردہ ہیں جن کی تعداد سترہ ہے۔

پچیس تابعین میں سے چھ کبار تابعین ہیں جن سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے۔ متوسط تابعین کی تعداد سات اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے، جبکہ صغار تابعین کی تعداد بارہ اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد اکتیس ہے۔

ان پچیس میں سے صرف دو یعنی حکم بن زیاد اور عبد الکریم بن ابی المخارق پر ائمہ جرح وتعدیل نے جرح کی ہے، جبکہ باقی سب راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

اکیاون مراسیل میں سے پانچ کے علاوہ، باقی سب کے شواہد اور مویدات ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں۔ یوں یہ روایات ان محدثین کے اصول کے مطابق بھی قابل استدلال ہیں جو اصولاً مرسل کو قبول نہیں کرتے۔

جن پانچ مراسیل کے شواہد بظاہر میسر نہیں، ان میں سے صرف ایک روایت کے راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، جبکہ باقی چاروں راوی علی بن الاقمر، علی بن حسین بن زین العابدین، محمد بن سوقہ اور ابراہیم نخعی جلیل القدر اور ثقہ تابعین ہیں۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے: محمد عثمان لیاقت، ’’کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)

(عمار خان ناصر)

کتاب کا ظاهری حسن

کتاب کے ظاہری حسن کا  اپنا تاثر ہے. پاکستان کے ناشر مغربی اور عرب دنیا کی کتابوں کے کافی سستے نسخے شائع کرتے ہیں لیکن انہیں دیکھ کر طبیعت بجھ سی جاتی ہے. مرزا غالب کی زندگی میں ان کا دیوان شائع ہوا. اس کی طباعت پسند نہ آئی تو اسے بدلباس معشوقۂ خوش رو سے تشبیہ دی.

(سید متین احمد)