بدھ، 6 جنوری، 2016

مطبوعہ کتاب سے برقی کتاب تک

اپنے وسیع تر مفہوم میں ہر وہ تحریر جو کسی بھی شکل میں محفوظ کردی جائے، کتاب کہلاتی ہے۔ انسان نے جب سے اپنے خیالات وافکار کو تحریر کا جامہ پہنانا شروع کیا ہوگا، غالباً وہی گھڑی کتابوں کا نقطہ آغاز ہوگی۔ کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں تختیوں، ہڈیوں اور جھلیوں پر تحریریں محفوظ کردی جاتی تھیں اور یہی کتاب کی ابتدائی شکل تھی۔ پھر ایک لمبے سفر کے بعد کاغذ ایجاد ہوا اور اسے تحریروں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ پندرہویں صدی میں چھاپا خانے کی ایجاد نے تو کتاب کی صنعت میں انقلاب برپا کردیا اور یوں کتاب اپنی موجودہ شکل میں ڈھل کر ہمارے سامنے آئی۔ انسان کے ذہنِ رسانے شاید ہی کتاب سے مفید کوئی ایجاد کی ہو۔ یہ کتاب ہی ہے جو علم ومعرفت کا سب سے بڑا منبع ہے۔ اس کے ذریعے انسان کے عقل وشعور میں پختگی آتی ہے اور یہی اس کی فکرکی سطح کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت جن اشیاءکو اپنی ذات یا شکل وصورت کی بقا کے چیلنج کا سامنا ہے، کتاب ان میں سے ایک ہے۔ اسے ارتقاءکا نام دیا جائے یا کچھ اور مگر سچی بات یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بعض چیزوں کی شکل مسخ ہوکر رہ گئی ہے۔ یہی کچھ کتاب کے ساتھ ہوا، جو روایتی طباعتی سانچے سے نکل کر برقی لہروں پر سوار ہوگئی۔ مطبوعہ کتاب سے برقی کتاب تک کا سفر اچانک نہیں ہوا، بلکہ پہلے پہل علوم وافکار کی انٹرنیٹ پر منتقلی ہوئی، جس کی وجہ سے طالبان علم کا رجوع بھی اس جانب بڑھا اور یوں کتابوں کی منتقلی کی باری آئی اور مطبوعہ کتابیں برقی کتابوں کی شکل میں ڈھلنے لگیں۔ یہیں سے ”الیکٹرانک بکس“ یا ”ای بکس“ کا تصور سامنے آیا۔ اسٹیفن کنگ نامی مصنف نے 2000ءمیں انٹرنیٹ پر پہلی برقی کتاب شائع کی۔ اس کے بعد برقی کتابوں کی اشاعت رواج پکڑنے لگی، تاہم برقی کتابوں کو باقاعدہ مقبولیت 2007ءمیں ملی، جب آن لائن تجارت کرنے والی امریکی کمپنی ایمزون نے ”کینڈل“ نامی منصوبہ متعارف کروایا۔ اس سے قبل 2004ءمیں ای بکس کے لیے باقاعدہ ڈیوائسز تیار کرنے کا آغاز ہوا، جو ای ریڈر کہلائی اور اس مقصد کے لیے ”سونی ریڈر“ ایجاد کی گئی۔ بعدازاں ”کینڈل“، ”کوبو“ اور ”نوک“ نامی ڈیوائسز مارکیٹ میں آئیں۔ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور ٹیبلٹ ان کے علاوہ ہیں۔

آج صورت حال یہ ہے کہ انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے ہی ہمارا واسطہ لاتعداد ڈیجیٹل لائبریریوں سے پڑتا ہے، جو برقی کتب کی مقبولیت کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔ یہ ای لائبریریز بھی کہلاتی ہیں۔ ان برقی مکتبوں میں لکھوکھا کتابیں دستیاب ہیں، جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ”انٹرنیٹ آرکائیو“ نامی ایک برقی لائبریری میں تیس لاکھ کے قریب کتابیں موجود ہیں، جبکہ ”یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری“ اور ”اوپن لائبریری“ میں دس دس لاکھ کتابیں پڑھنے کے لیے دستیاب ہیں۔ ”گوگل بکس“ اور ”پراجیکٹ گٹن برگ“ نام کی لائبریریوں میں بھی لاکھوں کتابیں مل جاتی ہیں۔ کئی لاکھ عربی کتابوں پر مشتمل مکتبة الشاملہ بھی ان برقی لائبریریوں میں سے ایک ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان لائبریریوں میں کتابوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ معروف تحقیقاتی اداروں اور یونیورسٹیوں کے برقی مکتبے ان کے علاوہ ہیں۔

انٹرنیٹ پر کتابیں چار شکلوں میں پائی جاتی ہیں۔ پہلی وہ کتابیں جو اصل متون سے بذریعہ اسکینر اسکین یا ٹائپ کرکے پی ڈی ایف فارمیٹ میں تبدیل کی گئی ہوتی ہیں۔ دوسری وہ کتابیں جو کمپوزڈ اور ٹیکسٹ کی صورت میں ہیں، تیسری وہ کتابیں جو ایپس کی شکل میں ہیں، چوتھی وہ جو انسائیکلو پیڈیا کی صورت میں موجود ہیں۔ برقی کتب کی مقبولیت کی کئی وجوہ ہیں۔ یہ ہر وقت قابل رسائی اور انتہائی سستی ہوتی ہیں۔ ان میں مطلوبہ معلومات بآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ای بکس کے نقصانات بھی ہیں۔ برقی کتب کے مسلسل مطالعے سے نظر خراب ہوجاتی ہے۔ ان کا مسلسل مطالعہ بہت مشکل اور صبرآزما ہوتا ہے۔ یہ پرچھائی کی طرح ہوتی ہے جو پل میں موجود اور پل میں غائب ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف روایتی کتابوں سے قاری کا صدیوں پرانا تعلق ہے۔ یہ معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں، ان کے مطالعے میں قاری راحت اور لطف محسوس کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے انقلاب کے نتیجے میں وجود پذیر ای بکس کو مطبوعہ کتابوں کی موت کا پیش خیمہ قرار دیا جارہا ہے اور کسی حد تک یہ حقیقت بھی ہے کہ روایتی کتابوں کو اپنی بقا کے لیے زبردست جدوجہد کا سامنا ہے۔ تاہم فی الوقت ای بکس مطبوعہ کتابوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔ کتاب کی روایتی شکل کی فنا کا خدشہ اپنی جگہ تاہم برقی صورت کو اس کی جگہ لینے کے لیے ابھی بہت سفر باقی ہے۔ آج بعض ممالک کے کچھ تعلیمی اداروں میں نصاب کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کی طرف پیش رفت ہورہی ہے تاہم دنیا کے اکثر ممالک کے تعلیمی اداروں میں رائج نصاب کتاب کی روایتی شکل میں ہی دستیاب ہے اور یہی اس کی بقا کا ضامن ہے۔ تغیر کی منہ زورآندھی کے سامنے ایک حسین روایت کا بادباں مشکل صورت حال میں ہے، ذرا تصور تو کیجیے کہ کتاب کی روایتی صورتِ زیبا کی فنا کے بعد ”کتاب بینی“ کا ذوق بھی ہمیشہ کے لیے دم توڑ نہیں دے گا؟ کیا آپ اس سانحے کے لیے تیار ہیں؟!

امین اللہ امین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں