صفحات

اتوار، 24 جنوری، 2016

کتاب العروج سے ایک اقتباس

کتاب العروج

گیرارڈ کے ترجموں نے اہل مغرب کو علم و فن کی ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا۔ جلد ہی یورپ کے مختلف اطراف و اکناف سے علم کے شائقین طلیطلہ پہنچنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ انگلستانی عالم Daniel of Morley جب اکتشافی علوم کی تلاش میں پیرس پہنچا تو اسے سخت مایوسی ہوئی۔ بالآخر اس نے طلیطلہ کا رخ کیا۔ عالمِ عیسائیت میں طلیطلہ کے علماء کے علمی دبدبے کا یہ عالم تھا کہ 1158ء میں یہودی عالم ابراہیم بن عزرا جب طلیطلہ سے لندن پہنچا تو اس کی یہ آمد انگلستان اور اس کے قرب و جوار میں Astrology کو قبولیت تامہ عطا کرنے کا سبب بن گئی۔ لاطینی کے علاوہ فرانسیسی اور مختلف یورپی زبانوں میں اس کی درجنوں چھوٹی بڑی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ کسی نے اس فن کی علمی بنیاد پر محاکمے کی ضرورت کم ہی محسوس کی۔ مسلمانوں کا علم ہو یا ان کا فکری التباس، ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے عیسائی یورپ کے لئے یہ سب کچھ لائق تقلید سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ مغربی مصنفین اپنی کتابوں کی ابتداء بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے لاطینی ترجمے سے کیا کرتے، جیسا کہ Roger of Hereford کی تصنیف Liber De Division Astronomiae سے اندازہ ہوتا ہے۔

''کتاب العروج، ص94''

(راشد شاز)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں