پروگرام: تقریب رونمائی
کتاب: وزیرستان کے رسوم ورواج کا شرعی قوانین کے ساتھ موازنہ اور پشتونوں کی تاریخ.
مصنف: ڈاکٹر تاج محمد وزیر
مقام : اسلام آباد ہوٹل
اظہار خیال کے چند نکات.
¤ قانون سازی اجتماعی شعور کی بنیاد پر ہوتی ہے
¤ قانون سازی سے پہلے سماج کے اجتماعی شعور کو جرم کے معاملے میں حساس بنانا پڑتا ہے. سماج کو حساس بنانے کا ذریعہ صرف اور صرف مکالمہ ہے.
¤ سماج جب تک جرم کے معاملے میں حساس نہ ہوجائے تب تک ریاست کے پاس قانون سازی کا اخلاقی جواز نہیں ہوتا.
¤ رسالت مآب نے قانون سازی سے پہلے سماج کو جرائم کے معاملے میں حساس کیا.
¤ قوانین میں عربوں کے رواج سے استفادہ تو ویسے بھی کیا ہی گیا، جیسے دیت کا قانون قبائلی روایات سے لیا گیا.
¤ جن معاملات میں سماج حساس نہ ہوا ان معاملات میں بھی قبائلی روایات و رواجات کو باقی رکھا گیا. اس کی متعدد مثالیں ہیں.
¤ روایات کو قانون کے ساتھ نتھی کرنا دراصل ایک سماجی دباو کا تقاضا ہوتا ہے. اس دباو جیسی حقیقت کو نظر انداز کر دینے سے بغاوت جنم لیتی ہے.
¤ ہمارے ہاں سیاسی حوالے سے ریاست اور قبائل کے بیچ ایک کشمکش رہی ہے. اس کشمکش کی بنیاد ہی یہ رہی کہ ریا ستی نمائندے کبھی قبائلی روایات کا ادراک اور اس کا احترام نہیں کر سکے.
¤ نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والا خلفشار بارہ برسوں کو اسی لیئے محیط ہوا کہ وزیرستان کے معاملے پہ تجزیئے اور فیصلے کا اختیار ان لوگوں کے پاس تھا جنہیں کبھی پشاور میں نمکین تکہ تک کھانے کا بھی اتفاق نہیں ہوا تھا.
¤ ڈاکٹر تاج وزیر کی کتاب اس حوالے سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کا ہر صفحہ قبائل کے الجھے ہوئے دھاگے کو پوری تحقیق کے ساتھ سلجھاتا ہے.
فرنود عالم