جمعہ، 29 جنوری، 2016

امام ابن ماجہ اور علمِ حدیث


مولانا محمد عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ
تبصرہ: ماہر القادری
فاران جولائی 1961ء
نوٹ: تبصرہ کے تمام مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں.

"مولانا عبدالرشید نعمانی ایک ثقہ اور وسیع المطالعہ عالم ہیں، جن کا قلم علمِ دین کی خدمت کے لئے وقف ہے! یہ کتاب ان کی گراں قدر تالیف ہے، جس میں "عہدِ رسالتؐ سے لے کر امام ابن ماجہ کے زمانہ تک کی تاریخِ تدوینِ حدیث اور امام ممدوح کی "کتابِ سنن ابن ماجہ" پر تفصیلی تبصرہ ملتا ہے۔
اس کتاب میں امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوانحِ زندگی کے علاوہ ان کی مشہور کتاب "سنن ابنِ ماجہ" پر بڑی تفصیل اور سیر حاصل بحث ہے، ساتھ ہی قزوین، مکہ معظمہ، کوفہ، بصرہ، بغداد، واسط، سامراء، دمشق، حمص، عسقلان، رملہ، ایلہ، بیت المقدس، مصر، رقہ، حران، الواز، رئے، اصفہان، ہمدان، وافغان، نیشاپور اور بلخ وغیرہ شہروں کے علمائے حدیث کے مختصر حالات درج ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حدیث کیا ہے؟ اور اس کی دینی حیثیت کیا ہے؟ کتابتِ حدیث، حفظِ حدیث اور تدوینِ حدیث کب ہوئی اور کس طرح ہوئی؟ علمِ حدیث کی طلب و جستجو میں مشاہیر اور شیوخ نے کتنی محنتیں کیں اور کیسے کیسے طویل سفر کئے؟
کتاب کے آخری ابواب یہ ہیں:
"سننِ ابن ماجہ کی نمایاں خصوصیات"
"صحت کے اعتبار سے ابنِ ماجہ کا درجہ"
"ابنِ ماجہ کے تلامذہ"
اور
"سننِ ابنِ ماجہ پر شروح و تعلیقات"
حضرت امام ابوحنیفہ ہوں یا حضرت امام بخاری، ان میں سے کوئی بھی معصوم نہ تھا، مگر غالی اہلِ حدیث کو امام ابوحنیفہ پر طنز کرنے اور متشدد احناف کو امام بخاری کی غلطیاں پکڑنے سے خاص شغف رہا ہے، اس کی جابجا جھلکیاں اس کتاب میں ملتی ہیں۔۔۔ مثلاً:
"۔۔۔امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم نے تاریخ و رجال کے تاریخی اوہام کے سلسلہ میں امام بخاری کی بہت سی غلطیاں نکالی ہیں، حافظ ابن ابی حاتم نے امام بخاری کے تاریخی اوہام پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے:"أخطاء البخاری"
اور
"۔۔۔۔۔بخاری نے ان کے یہاں اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ قرآن پاک کے جو الفاظ ان کے منہ سے نکلتے ہیں وہ مخلوق ہیں، تو ان دونوں حضرات (امام ابوحاتم اور ابوزرعہ) نے بخاری کی حدیث کو ترک کردیا۔" (بحوالہ کتاب الجرح و التعدیل)
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ "کتاب الآثار" کے بعد حدیث کا دوسرا صحیح مجموعہ جو اس وقت امت کے ہاتھوں میں موجود ہے، وہ امام دارالہجرۃ مالک بن انس کی مشہور تصنیف موطا ہے۔۔" اس صورت میں فاضل مولف کے لکھنے کے مطابق "صحیح امام بخاری" نہ جانے احادیث کے کتنے مجموعوں کے بعد کی کتاب قرار پاتی ہے۔
"یہ واضح رہے کہ ضعیف روایتیں سنن ابن ماجہ ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں، فرق اتنا ہے کہ ان میں کم ہیں اور اس میں زیادہ ہیں، اور ان کتابوں کو جو "صحاح ستہ" کہا جاتا ہے محض تغلیباً ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی ہر روایت صحیح ہے۔" (صفحہ241)
"صحیح بخاری" کے بارے میں قریب قریب یہی بات مولانا مودودی نے کسی تقریر میں کہہ دی تھی تو اہلِ حدیث کے بعض رسالوں اور اخبارو ں میں ان کے خلاف ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔
فاضل مولف نے لکھا ہے کہ اس غلط فہمی میں ملاجیون، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے اکابر مبتلا ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ کی سرے سے کوئی کتاب ہی موجود نہیں ہے، موصوف نے ثابت کیا ہے کہ "کتاب الآثار" امام ابوحنیفہ کی تصنیف ہے۔
مولانا عبدالرشید نعمانی نے علمائے حدیث کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام مالک کی موطا کو صحیحین پر ترجیح ہے، اس لئے کہ امام مالک کی خصوصیت ہے کہ وہ کسی بدعتی سے خواہ وہ کیسا ہی پاک باز اور راست باز ہو حدیث کی روایت کے روادار نہیں، برخلاف اس کے صحیحین میں مبتدعین کی روایات (بشرطیکہ وہ ثقہ اور صادق اللہجہ ہوں) بکثرت موجود ہیں۔"
"۔۔۔۔لیکن اس سلسلہ میں شاہ صاحب (ولی اللہ) کے قلم سے بعض ایسی باتیں نکل گئی ہیں جو خلاف واقعہ ہیں۔۔۔"(صفحہ180)
وفات پائے ہوئے اسلاف اور بزرگوں کے تسامحات پر نقد و احتساب کی اس جرءت سے اگر اخلاف عام طور پر کام لیتے تو امت بہت سی غلط فہمیوں بلکہ فتنوں سے محفوظ رہتی۔
فاضل مؤلف نے بڑی تحقیقی بات کہی ہے کہ :
"غرض ابھی دوسری صدی ختم نہ ہونے پائی تھی کہ علمِ حدیث میں بکثرت تصانیف مدون ہو کر شائع ہوچکی تھیں اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے تلامذہ نے تمام عالم اسلام کو فقہ و حدیث سے معمور کردیا تھا، اسی صدی میں فقہ حنفی اور فقہ مالکی کی تدوین احادیث و آثار کی روشنی میں مکمل ہوئی۔۔۔یہ وہ زمانہ ہے کہ امام بخاری اور مسلم اور دوسرے مصنفینِ صحاحِ ستہ بھی پیدا نہیں ہوئے تھے اربابِ صحاحِ ستہ نے بیشتر انہی دونوں اماموں کے تلامذہ یا تلامذہ کے تلامذہ سے علم حدیث کی تحصیل کی۔"(ص198)
کوئی شک نہیں یہ کتاب علمی مواد اور تحقیق کے اعتبار سے اپنے موضوع پر گراں قدر اور بلند پایہ ہے، جس سے عوام و خواص سبھی استفادہ کرسکتے ہیں!".

بشکریہ پیج "ماھر القادری"

منگل، 26 جنوری، 2016

عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر

''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر'' مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کی اصول تفسیر پر ایک مایہ ناز شرح ہے، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصول تفسیر پر عربی میں ایک شہرہ آفاق اور مقبول عام تصنیف ہے جس کی اردو شرح ”عون الخبیر“ کے نام سے 713 صفحات پر مشتمل 2005ء میں شائع ہو کر منظر عام پر آئی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اردوزبان میں الفوز الکبیر کی اتنی تفصیلی اور ضخیم شرح پہلی بار شائع ہوئی ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا،یہ اصل میں مفسر قرآنؒ کی وہ تقریر ہے جو طلباء کرام کو پڑھاتے وقت ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لی گئی تھی جسے بعد میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر کے اہل علم، طلباء و معلمین کے استفادہ کیلئے ادارہ نشرو اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے، الفوز الکبیر صدیوں سے تمام مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں شامل ہے، اس کی شرح کی اشاعت کو اہل علم کے ہاں بے حد قدر کی نگا ہ سے دیکھا گیا ہے ــــــــــــ
آنلائن پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے کلک کیجیے.

زُجاجة المصابيح

"زُجاجة المصابيح" مولانا عبداللّٰہ بن مظفر حسین حیدرآبادی رحمھما اللّٰہ (متوفی 1384ھ) کی تالیفِ لطیف ہے، جس میں "مشکوۃ المصابیح" کے طرز پر احکام ومسائل سے متعلق علمائے احناف کے مستدلات جمع کیے گئے ہیں، البتہ "مشکوۃ" کے برخلاف اس میں ہر باب کی ایک ہی فصل قائم کی گئی ہے، مؤلف کا اسلوب یہ ہے کہ وہ باب کی ابتدا میں متعلقہ آیات واحادیث، پھر ان سے مستنبط احکام، اختلافِ ائمہ، اسباب وعللِ اختلاف، دلائلِ حنفیہ، ان کی وجوہ ترجیح، اور دیگر احادیث وآثار سے ان کی تائید بیان کرتے ہیں، مذھب کے دائرے میں رہتے ہوئے مختلف فیھا مسائل میں راجح ومفتی بہ اقوال کو بنیاد بناتے ہیں، احادیث میں اولاً ان احادیث کو لاتے ہیں جو ترجمۃ الباب پر مطابقتاً  دلالت کرتی ہیں، پھر تضمنی اور التزامی دلائل ذکر کرتے ہیں.

اس کتاب کے متعلق مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللّٰہ نے کہا تھا:
"إن هذا التاليف المستطاب من ذكريّات هذا العصر الجديد ومآثره، إذ هو أهم الكتب التي ألفت في فن الحديث، فجزاه اللّٰه خيرا".

مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللّٰہ کا تبصرہ ہے کہ:
"اس کتاب کے ذریعے قصرِ حدیث میں باقی رہ جانے والا ایک خلا پُر ہوا ہے".

مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللّٰہ کے بقول:
"مؤلف نے اس کتاب کے ذریعے علمائے احناف کے ذمے کا ہزار سالہ قرض چکایا ہے".

شامی عالم ومحدث شیخ عبدالفتاح ابوغدۃ رحمہ اللّٰہ نے مؤلف کے نام ایک خط میں کتاب کے متعلق لکھا ہے:
"فاستنار بصري وبصيرتي، فجزاكم اللّٰه عن الإسلام والسادة الحنفية أفضل الجزاء".

علاوہ ازیں مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللّٰہ نے بھی ایک ریویو نما وقیع تبصرہ قلم بند کیا ہے، جو غالبا "صدق" میں شائع ہوا تھا.

مذکورہ تفصیل سے فقہ حنفی میں کتاب کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے، اسی لیے مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللّٰہ نے "مشکوۃ" کے ساتھ "زجاجۃ" کو داخلِ نصاب کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن اس کے باوجود اسے کماحقہ پذیرائی نہیں مل سکی، پہلی بار یہ کتاب 1361ھ میں حیدرآباد دکن سے طبع ہوئی تھی، پھر پاکستان میں مکتبہ خیریہ کوئٹہ سے 1422ھ میں چھپی، کافی عرصے سے کمیاب ہوجانے کی بنا پر اس کی عمدہ طباعت کی ضرورت محسوس کی جاتی تھی، تاکہ استفادے کا دائرہ وسیع ہو، مسرت انگیز خبر ہے کہ اس علمی  ضرورت کا درست ادراک  کرتے ہوئے ملک کے معروف طباعتی ادارے مکتبۃ البشری کراچی نے چار جلدوں میں یہ کتاب شائع کردی ہے، امید ہے کہ ان شاء اللّٰہ جلد ہی عام دسترس میں آجائے گی.

(ابو الحسن الطالب)

پیر، 25 جنوری، 2016

درود و سلام

درود و سلام کے عظیم اور مبارک موضوع پر لکھی گئی چند اہم اور مشھور کتابیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: أنوار الآثار المختصة بفضل الصلاة على النبي المختار
•   المؤلف: أحمد بن معد بن عيسى الأقليشي أبو العباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع (ت: عوامة)
•   المؤلف: محمد بن عبد الرحمن السخاوي
•   المحقق: محمد عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: الصلات والبشر في الصلاة على خير البشر
•   المؤلف: محمد بن يعقوب الفيروزآبادي مجد الدين
•   المحقق: محمد نور الدين عدنان الجزائري - عبد القادر الخياري - محمد مطيع الحافظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم معانيها أحكامها فضائلها
•   المؤلف: عياض
•   المحقق: محمد عثمان الخشت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم
•   المؤلف: عبد الحميد بن باديس
•   المحقق: أبو عبد الرحمن محمود
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: مسالك الحنفا الى مشارع الصلاة على المصطفى (ط. العلمية)
•   المؤلف: أحمد بن محمد بن أبي بكر القسطلاني أبو العباس
•   المحقق: حسين بن عكاشة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: فضل الصلاة على خاتم الأنبياء صلى الله عليه وسلم من (بدائع الفوائد) و(جلاء الأفهام)
•   المؤلف: ابن قيم الجوزية
•   المحقق: صالح أحمد الشامي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الإعلام بفضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والسلام
•   المؤلف: محمد بن عبد الرحمن بن علي النميري
•   المحقق: حسين محمد علي شكري
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•   عنوان الكتاب: فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم (ت: الألباني)
•   المؤلف: إسماعيل بن إسحاق القاضي الجهضمي
•   المحقق: محمد ناصر الدين الألباني
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: الخير الكثير في الصلاة والسلام على البشير النذير
•   المؤلف: شعبان بن محمد الموصلي الشافعي أبو سعيد
•   المحقق: أحمد سعد الدين عوامة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  عنوان الكتاب: رسالة أوقات الصلاة عن النبي صلى الله عليه وسلم
•   المؤلف: تقي الدين الهلالي المغربي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم وضاحت : یہ تمام کتب مکتبہ وقفیہ کے گوشہ بنام : الاذکار و الشعائر میں موجود ہیں ۔۔ شائقین وہاں جا کر انہیں ڈانلوڈ کر سکتے ہیں :
http://waqfeya.com/index.php

(مدثر جمال)

اتوار، 24 جنوری، 2016

ملتے جلتے ناموں والی کچھ کتب

بعض ایسی کتابیں جن کے نام ملتے جلتے ہیں اور بسا اوقات ان کے تعارف میں اشتباہ سا ہو جاتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1 : الإمام في بيان أدلة الأحكام
المؤلف: أبو محمد عز الدين عبد العزيز بن عبد السلام بن أبي القاسم بن الحسن السلمي الدمشقي ، الملقب بسلطان العلماء
(المتوفى: 660هـ(

2 : الإلمام بأحاديث الأحكام
المؤلف: تقي الدين أبو الفتح محمد بن علي بن وهب ابن دقيق العيد
ولد سنة 625 ه ۔ توفي (بالقاهرة) سنة 702 ه

3 : شرح الإلمام بأحاديث الأحكام
المؤلف: تقي الدين ابن دقيق العيد

4 : الإلمام بمسائل الإعلام / تأليف الشيخ أحمد بن عبد الرازاق المغربي الرشيدي الشافعي ۔ وهو تهذيب كتاب الإعلام بقواطع الإسلام للهيثمي

5 : الإلمام ببعض آيات الأحكام (تفسيراً واستنباطاً) –
مؤلف : محمد بن صالح العثيمين

6 : الإلمام بغزل الفقهاء الأعلام
تأليف: غازي القصيبي

7 : الإحكام في أصول الأحكام
المؤلف: علي بن محمد الآمدي

8 : الإحكام في أصول الأحكام
المؤلف: علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي أبو محمد

(مدثر جمال تونسوی)

معرفت تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن

مولانا وحید الدین صاحب کی کتاب معرفت   تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن عمدہ کتاب ھے ۔اس میں جو بات مجھے گھائل کر گئ وہ یہ کہ اللہ کے سامنے اپنی بے بسی کا یقین و اظہار ہی سب سے بڑی متاع بندگی ھے   اور کیوں نہ ہو کہ بے بسی اور عاجزی ہی وہ متاع ھے جو اللہ کے پاس نہیں اور جب کسی کو ایسا تحفہ پیش کیا جائے جو اس کے پاس نہ ہو تو اس کی قدر افزائ میں کوئ کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی ۔
البتہ مجھے الجھن یہ ہوئ کہ معرفت اور ایمان کا باہمی کیا تعلق ھے ۔قرآن نے یہود کے بارے میں کہا ھے کہ یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم لیکن یہ معرفت ایمان نہیں تھی علم تو معرفت کا نچلا درجہ ھے  غالبا ایمان کا درجہ معرفت سے اوپر کا ھے یعنی ترتیب صعودی یہ ہوگی
   جاننا   یعنی علم
پہچاننا یعنی معرفت
ماننا یعنی ایمان

(ڈاکٹر طفیل هاشمی)

الموافقات

امام شاطبی کی "الموافقات" سے عہد جدید میں فقہ اسلامی کی روح کے سمجھنے میں بہت فائدہ اٹھایا گیا ہے. انگریزی میں اس حوالے سے لکھی گئی تحریریں اس کتاب کی اہمیت واضح کرتی ہیں. مصر میں محمد عبدہ اسے اپنے طلبہ کو خصوصی طور پر تجویز کرتے تھے. مولانا مودودی ر ح  نے غالبا سب سے پہلے اسے اردو زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا. اسلامی یونیورسٹی کے اصول فقہ کے نامور فاضل ڈاکٹر عمران احسن خان نیازی نے اسے انگریزی میں منتقل کیا ہے جو ابھی نظر سے نہیں گزرا لیکن محترم ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کا کہنا ہے کہ عمدہ ترجمہ ہے. نیازی صاحب جیسے لوگ پاکستان میں رہ کر وہی کام کر رہے ہیں جو عرب دنیا میں ڈاکٹر جمال الدین عطیہ جیسے لوگ کر رہے ہیں.نامور اہل حدیث عالم مولانا عبد الرحمان کیلانی ر ح نے اس کتاب کو اردو میں منتقل کیا تھا لیکن یہ ترجمہ معنی خیز نہیں ہے اور کتاب کے مشکل مقامات کے سمجھنے میں زیادہ معاون نہیں.  یوسف حامد العالم کی مقاصد شریعت پر کتاب کو محترم ڈاکٹر طفیل ہاشمی صاحب نے اردو میں منتقل کیا ہے اور اس میں شاطبی کے اقتباسات کو جس عمدگی سے اردوایا ہے وہ ان کی شاطبی فہمی کی دلیل ہے. محترم عمار صاحب اس کتاب کی شریعہ اکیڈمی میں تدریس کرتے تھے لیکن افسوس ہے ان دروس کی ریکارڈنگ نہیں ہو سکی ورنہ وہ عمار صاحب کی اعلا لیاقت و لباقت کا ثبوت ہوتے. کاش ان کی سطح کا کوئی فاضل اسے عبد اللہ دراز جیسے عمدہ حواشی کے ساتھ اردو کا جامہ پہنا دے. بندے کا قرآنی دراسات سے تعلق ہے. شاطبی کی اس کتاب کی دوسری جلد میں علوم قرآنی سے متعلق مباحث عام کتابوں میں نہیں ملتے اور عمدہ ہیں.

(سید متین احمد)

کتاب العروج سے ایک اقتباس

کتاب العروج

گیرارڈ کے ترجموں نے اہل مغرب کو علم و فن کی ایک نئی دنیا سے متعارف کرایا۔ جلد ہی یورپ کے مختلف اطراف و اکناف سے علم کے شائقین طلیطلہ پہنچنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ انگلستانی عالم Daniel of Morley جب اکتشافی علوم کی تلاش میں پیرس پہنچا تو اسے سخت مایوسی ہوئی۔ بالآخر اس نے طلیطلہ کا رخ کیا۔ عالمِ عیسائیت میں طلیطلہ کے علماء کے علمی دبدبے کا یہ عالم تھا کہ 1158ء میں یہودی عالم ابراہیم بن عزرا جب طلیطلہ سے لندن پہنچا تو اس کی یہ آمد انگلستان اور اس کے قرب و جوار میں Astrology کو قبولیت تامہ عطا کرنے کا سبب بن گئی۔ لاطینی کے علاوہ فرانسیسی اور مختلف یورپی زبانوں میں اس کی درجنوں چھوٹی بڑی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ کسی نے اس فن کی علمی بنیاد پر محاکمے کی ضرورت کم ہی محسوس کی۔ مسلمانوں کا علم ہو یا ان کا فکری التباس، ایک غالب تہذیب کی حیثیت سے عیسائی یورپ کے لئے یہ سب کچھ لائق تقلید سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ مغربی مصنفین اپنی کتابوں کی ابتداء بھی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے لاطینی ترجمے سے کیا کرتے، جیسا کہ Roger of Hereford کی تصنیف Liber De Division Astronomiae سے اندازہ ہوتا ہے۔

''کتاب العروج، ص94''

(راشد شاز)

منگل، 19 جنوری، 2016

کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، (مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)

مرسل روایات کی قبولیت یا عدم قبولیت فقہا۶ ومحدثین کے مابین ایک معروف اختلافی بحث ہے۔ فقہائے احناف اور مالکیہ اس حوالے سے بہت توسع رکھتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مراسیل کو ترک کر دینے سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ایک بہت بڑے حصے کو نظر انداز کر دینا لازم آتا ہے۔

اصولی بحث سے قطع نظر، اس ضمن میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ائمہ احناف نے جن مرسل روایات پر اپنے فقہی موقف کی بنیاد رکھی، وہ محدثین کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں بھی بحیثیت مجموعی قابل استناد ہیں۔ امام مالک نے جن مراسیل سے استدلال کیا ہے، ان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور موطا پر محدثین نے ہمہ جہت تحقیقی کام کر کے اس پہلو کو بہت واضح کر دیا ہے۔ البتہ ائمہ احناف کے مستدلات پر اس نوعیت کا زیادہ کام دیکھنے کو نہیں ملتا۔

بہرحال، گفٹ یونیورسٹی میں ہمارے ایک عزیز اور لائق دوست محمد عثمان لیاقت نے میری نگرانی میں کچھ عرصہ قبل امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الآثار میں منقول مراسیل پر اپنی تحقیق مکمل کی ہے جس پر انھیں ایم فل کی ڈگری ایوارڈ کی گئی ہے۔ محقق نے کتاب الآثار میں مروی جملہ مراسیل کا مختلف پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد حسب ذیل نتائج تحقیق پیش کیے ہیں:

کتاب الآثار میں کل اکیاون مراسیل نقل کی گئی ہیں جو پچیس تابعین سے منقول ہیں اور ان میں سب سے زیادہ روایات امام ابراہیم نخعی کی روایت کردہ ہیں جن کی تعداد سترہ ہے۔

پچیس تابعین میں سے چھ کبار تابعین ہیں جن سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے۔ متوسط تابعین کی تعداد سات اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد دس ہے، جبکہ صغار تابعین کی تعداد بارہ اور ان سے مروی مراسیل کی تعداد اکتیس ہے۔

ان پچیس میں سے صرف دو یعنی حکم بن زیاد اور عبد الکریم بن ابی المخارق پر ائمہ جرح وتعدیل نے جرح کی ہے، جبکہ باقی سب راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

اکیاون مراسیل میں سے پانچ کے علاوہ، باقی سب کے شواہد اور مویدات ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں۔ یوں یہ روایات ان محدثین کے اصول کے مطابق بھی قابل استدلال ہیں جو اصولاً مرسل کو قبول نہیں کرتے۔

جن پانچ مراسیل کے شواہد بظاہر میسر نہیں، ان میں سے صرف ایک روایت کے راوی عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، جبکہ باقی چاروں راوی علی بن الاقمر، علی بن حسین بن زین العابدین، محمد بن سوقہ اور ابراہیم نخعی جلیل القدر اور ثقہ تابعین ہیں۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے: محمد عثمان لیاقت، ’’کتاب الآثار للشیبانی میں مرسل روایات ۔ تجزیاتی مطالعہ‘‘، مقالہ برائے ایم فل علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ، سیشن ۱۴۔۲۰۱۲ء)

(عمار خان ناصر)

کتاب کا ظاهری حسن

کتاب کے ظاہری حسن کا  اپنا تاثر ہے. پاکستان کے ناشر مغربی اور عرب دنیا کی کتابوں کے کافی سستے نسخے شائع کرتے ہیں لیکن انہیں دیکھ کر طبیعت بجھ سی جاتی ہے. مرزا غالب کی زندگی میں ان کا دیوان شائع ہوا. اس کی طباعت پسند نہ آئی تو اسے بدلباس معشوقۂ خوش رو سے تشبیہ دی.

(سید متین احمد)

اتوار، 17 جنوری، 2016

عصر حاضر میں علوم حدیث پر لکھی گئی کتابیں


• قواعد التحديث من فنون مصطلح الحديث: للشيخ محمد جمال الدين القاسمي.
• توجيه النظر إلى أصول أهل الأثر: للعلامة طاهر الجزائري.
• الوسيط في علوم الحديث: للعلامة محمد بن محمد أبوشهبة. وهو أنفس كتب الحديث الذي كتبت في عصرنا الحاضر.
• تيسير مصطلح الحديث: للأستاذ محمود الطحان. هو من أسهل وأحسن الكتب في مصطلح الحديث، راعى فيه مؤلفه الفاضل مستوى الطلاب المبتدئين.
• تحرير علوم الحديث: للشيخ عبد الله بن يوسف الجديع. بنى فيه المؤلف تحرير أصول هذا العلم على طريق السلف المتقدمين.
• منهج النقد في علوم الحديث: للشيخ نورالدين عتر. يتميز هذا الكتاب بحسن التقسيم والتفصيل.
• معجم المصطلحات الحديثية: للشيخ نورالدين عتر. وهو أول معجم وضع في مصطلح الحديث، وكان نبراسا للذين وضعوا المعاجم على غراره بعده.
• معجم مصطلحات الحديث ولطائف الأسانيد: للدكتور ضياء الرحمن الأعظمي.
• معجم علوم الحديث النبوي: للدكتور عبد الرحمن بن إبراهيم الخميسي. هو من أحسن وأكمل المعاجم من حيث حسن الترتيب والمادة العلمية.
• إمعان النظر في توضيح نخبة الفكر: شرح بسيط للشيخ محمد أكرم بن عبد الرحمن السندي.
• مقدمة في أصول الحديث: للمحدث عبد الحق الدهلوي.
• العجالة النافعة: للشيخ عبد العزيز بن ولي الله الدهلوي.
• منهج الوصول في اصطلاح الرسول(بالفارسية) للسيد صديق حسن خان القنوجي.
• الرفع والتكميل في الجرح والتعديل: للإمام عبد الحي اللكنوي.
• ظفر الأماني بشرح مختصر السيد الشريف الجرجاني في مصطلح الحديث: للإمام عبد الحي اللكنوي. هذا كتاب حفيل العلم، جليل القدر، وعلق نفيس جم الفوائد، رفيع الذكر، من أواخر ماألفه الإمام اللكنوي.
• موسوعة علوم الحديث وفنونه. للسيد عبد الماجد الغوري.

(فضل الرحمن محمود)

پیر، 11 جنوری، 2016

تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ ایک تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر حافظ افتخار احمد

برصغیر پاک و ہند میں اللّہ تعالیٰ نے جن اہل علم و فضل کو اپنی آخری کتاب قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کی توفیق عطا فرمائی ان کی فہرست تو بہت طویل ہے اس فہرست میں ایک نام مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کا بھی ہے جنہوں نے ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے اردو زبان میں نو(۹) جلدوں میں ایک ضخیم تفسیر لکھی۔ جس کے متعدد ایڈیشن اب تک شائع ہو چکے ہیں۔ ہماری آج کی گفتگو کا  عنوان اس تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ پر ایک ناقدانہ نظر ہے۔ تدبر قرآن پر بات کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا اصلاحی کے متعلق چند باتیں آپ حضرات کے سامنے گوش گذار کر دی جائیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی             مولانا امین احسن اصلاحی ۱۹۰۴ء میں ہندوستان کے ایک گاوں ’’بمبھور‘‘ ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے(۱)۔ اور سرائے میر ضلع اعظم گڑھ انڈیا کی مشہور دینی درسگاہ ’’مدرسہ الاصلاح‘‘(۲) میں تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۲۵ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد اس مدرسہ میں بحیثیت مدرس تعینات ہوئے اور ساتھ ہی مولانا عبدالحمید(۳) فراہی(۴) سے استفادہ جاری رکھا۔ سنہ ۱۹۳۰ء میں مولانا فراہی(۵) کے انتقال کے بعد مولانا عبدالرحمن مبارکپوری(۶) سے شرف تلمذ حاصل کیا اور ’’سنن ترمذی‘‘ (۷) پڑھی(۸)۔ اس عرصے میں ان کے تعلقات مولانا مودودی(۹) سے استوار ہوئے اور ۱۹۴۱ء میں جب جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا اصلاحی صاحب اس میں شامل ہو گئے اور اس کے شعبہ تصنیف و تالیف اور دعوت میں مشغول ہو گئے۔ ۱۹۵۷ء میں بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر جن سے اہلِ علم واقف ہیں، سترہ (۱۷) سال کی طویل رفاقت کے بعد آخر کار جماعت سے علیحدہ ہو گئے(۱۰) اور ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر لکھنا شروع کی جو ۱۹۸۰ء میں مکمل ہوئی اور عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ نزولِ قرآن کریم کا زمانہ بھی تیئیس(۲۳) سال پر محیط ہے اور تدبر قرآن کی تالیف کی مدت بھی تیئیس سال ہی ہے اس طرح اس کتاب کی تکمیل میں آپ کو ایک الہامی مناسبت حاصل ہو گئی ہے۔             ’’تدبر قرآن‘‘ کی تالیف سے فراغت کے بعد مولانا اصلاحی صاحب نے ادارہ ’’تدبر قرآن و حدیث‘‘ قائم کیا جس میں انہوں نے اصول تفسیر و تفسیر اور اصول حدیث و حدیث پر لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا اور طلبہ کو مؤطا امام مالک(۱۱) سبقًا سبقًا پڑھائی اور اس کے بعد صحیح بخاری(۱۲) کا درس شروع کیا اور یہ تمام لیکچرز مولانا اصلاحی صاحب کی زیر سر پرستی لاہور سے شائع ہونے والے ماہنامہ (تدبر) (۱۳) میں شائع ہو رہے ہیں۔ مولانا اصلاحی صاحب اس ادارے کے مؤسس اور اس کے سربراہ ہیں (۱۴)۔             تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کے علاوہ مولانا اصلاحی صاحب نے مختلف دینی علمی و سیاسی موضوعات پر تقریبًا بیس(۲۰) کے قریب تصانیف (۱۵) سپرد قلم کی ہیں۔ اور اس کے علاوہ انہوں نے اپنے قابل صد احترام استاد مولانا عبدالحمید فراہی کی تفسیر’’نظام القرآن‘‘(۱۶) جو در اصل چند سورتوں (۱۷) کی تفسیر ہے اس کا اردو ترجمہ کیا جو مولانا اصلاحی کے جاری کردہ رسالے  ’’الاصلاح‘‘(۱۸) میں شائع ہوتا رہا اور اب یہ تفاسیر فراہی کے نام سے شائع ہو چکی ہے، مولانا اصلاحی صاحب کا انتقال ۱۴ دسمبر ۱۹۹۷ء کو لاہور میں ہوا۔ انّا للّہ وانّا الیہ راجعون۔ تفسیر تدبر قرآن کی غرض و غایت             مولانا اصلاحی صاحب ’’تدبر قرآن‘‘ کے مقدمے میں فرماتے ہیں : ’’اس کتاب کے لکھنے سے میرے پیش نظر قرآن کریم کی ایسی تفسیر لکھنا ہے۔ جس میں میری دلی آرزو اور پوری کوشش اس امر کے لئے ہے کہ میں ہر قسم کے بیرونی لوث اور لگاؤ کے تعصب و تخرب سے آزاد اور پاک ہو کر ہر آیت کا وہ مطلب سمجھوں اور سمجھاؤں جو فی الواقع اور فی الحقیقت اس آیت سے نکلتا ہے اس مقصد کے تقاضے سے قدرتی اہمیت دی ہے جو خود قرآن کے اندر موجود ہیں (۱۹)۔ اصلاحی صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے وسائل مولانا اصلاحی صاحب نے فہم قرآن کے وسائل کو دو حصّوں میں تقسیم کیا ہے:             ۱۔        فہم قرآن کے داخلی وسائل             ۲۔       فہم قرآن کے خارجی وسائل داخلی وسائل ۱۔        قرآن حکیم کی زبان         ۳۔       قرآن کریم کا نظم             ۳۔       قرآن کریم کے نظائر و شواہد خارجی وسائل             ۱۔        حدیث              ۲۔       تاریخ    ۳۔       سابقہ آسمانی صحیفے ۴۔            تفسیر کی کتابیں (۲۰)             اس کے بعد مولانا فرماتے ہیں کہ : ’’اگرچہ امکان کی حد تک میں نے ان سے (خارجی وسائل) بھی فائدہ اٹھایا ہے لیکن ان کو داخلی وسائل کے تابع رکھ کر ان سے استفادہ کیا ہے جو بات قرآن کے الفاظ، قرآن کے نظم اور قرآن کی خود اپنی شہادتوں اور نظائر سے واضح ہو گئی ہے۔ تو وہ میں نے لے لی ہے۔ اگر کوئی چیز اس کے خلاف میرے سامنے آئی ہے تو میں نے اس کی قدر و قیمت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کو جانچا ہے۔ اگر دینی و علمی پہلو سے وہ کوئی اہمیت رکھنے والی بات ہوئی ہے تو میں نے اس پر تنقید کر کے اس کو سمجھنے اور اس کے صحیح پہلو متعین کرنے کی کوشش کی ہے اور اگر کوئی بات یونہی سی ہوئی ہے۔ تو اس کو نظر انداز کر دیا ہے۔ بے ضرورت اس پر طبع آزمائی نہیں کی ہے(۲۱)۔ تدبر قرآن کے تفسیری ماخذ اور ان سے استفادہ کی نوعیت             اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ کی تالیف میں جن قدیم مفسرین کی تفاسیر سے استفادہ کیا ہے ان کو ذکر خود مولانا نے ’’تدبر قرآن‘‘ کی جلد اوّل کے مقدمہ میں کیا ہے جو حسبِ ذیل ہے: ۱۔        ابو جعفر محمد بن جریر الطبری(متوفی ۳۱۰ھ) کی تفسیر ’’جامع البیان عن تاویل آی القرآن‘‘ المعروف(تفسیر طبری)(۲۲)۔ ۲۔       اور مشہور معتزلی مفسر امام جار اللّہ محمود بن عمر الزمخشری(متوفی ۵۲۸)(۲۳) کی تفسیر ’’الکشاف عن حقائق عوارض التنزیل و عیون الاقاویل فی وجوہ التاویل‘‘ المعروف بہ(تفسیر زمخشری)۔ ۳۔       اور امام فخر الدین محمد بن عمر بن الحسین الحسن ابن علی الرازی(۲۴)(۵۴۴-۶۰۴ھ) کی تفسیر مفاتیح الغیب المعروف تفسیر کبیر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔             مذکورہ بالا تفاسیر کے علاوہ اصلاحی صاحب نے اپنے استاد عبدالحمید فراہی کی تفسیر ’’نظام القرآن‘‘ سے بھی خاطر خواہ  استفادہ کیا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ تفاسیر میں اصلاحی صاحب نے سب سے زیادہ اگر کسی تفسیر سے استفادہ کیا ہے تو یہی فراہی کی تفسیر ّہے اور اکثر مقامات پر تو انہوں نے فراہی صاحب کی تفسیر کو بعینہ نقل کر دیا ہے(۲۵)۔ اس کی مثال ’’سورہ فیل‘‘ کی تفسیر ہے جس میں شاگرد رشید اپنے استاد سے متلف ہے اور ان کا مؤقف جمہور مفسرین سے مختلف ہے۔ ان تفاسیر سے استفادہ کی نوعیت کے بارے میں مولانا اصلاحی صاحب فرماتے ہیں :             ’’ہمارا طریقہ تفسیر یہ ہے کہ ہم ہر سورۃ اور ہر آیت پر اس کے الفاظ، اس کے سیاق و سباق، اس کے نظم اور قرآن میں اس کے شواہد نظائر کی روشنی میں غور کرتے ہیں۔ اس طرح جو باتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ مزید اطمینان کے لئے ان کی تفسیروں میں دیکھ لیتے ہیں۔ جس نتیجے تک ہم پہنچتے ہیں ان کی تائید اگر تفسیروں سے بھی ہو جاتی ہے تو اس سے مزید اطمینان ہو جاتا ہے۔ اگر تفسیروں سے اس کی تائید نہیں ہوتی تو اس پر غور فکر جاری رکھتے ہیں تا آنکہ یا تو اپنی غلطی دلائل کے ساتھ واضح ہو جائے یا تفسیروں میں جو بات ہے اس کے ضعف کے وجوہ و دلائل سامنے آ جائیں ہمارے نزدیک  تفسیروں سے فائدہ اٹھانے کا صحیح طریقہ یہی ہے(۲۶)۔             علوم القرآن کے ذیل میں اصلاحی صاحب اپنے استاد مولانا فراہی کی ’’دلائل النظام(۲۷) اور ’’مفردات القرآن‘‘ (۲۸) اور ’’فاتحہ نظام القرآن‘‘(۲۹) سے استفادہ کیا ہے اور اپنی تفسیر میں جگہ جگہ کے حوالے دیئے ہیں اور کتب لغت میں ’’لسان العرب‘‘(۳۰) اور ’’اقرب الموارد‘‘ پر (۳۱) اصلاحی صاحب نے اعتماد کیا ہے۔ حدیث نبوی کے بارے میں اصلاحی صاحب کا مؤقف             مولانا اصلاحی صاحب نے حدیث کی دو قسمیں بیان کی ہیں : ۱۔        حدیث متواتر                  ۲۔       خبر واحد             حدیث متواتر کے بارے میں تو وہ تواتر عملی پر اعتماد کرتے ہیں اور تواتر نقلی کا انکار کرتے ہیں (۳۲)۔ اخبار آحاد پر ان کا اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی تفسیر میں حدیث نبوی کا ذکر بہت کم ملتا ہے اور مزید حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر تو انہوں نے محض لغت اور اپنی عقل  پر اعتماد کرتے ہوئے صحیح احادیث کو چھوڑ دیا ہے جن کو امام بخاریؒ اور مسلم نے اپنی صحیحین میں ذکر کیا ہے جن میں مطلقہ ثلاث کی اپنے پہلے خاوند کے لئے حلت اور محصن (بالصاد) زانی کے رجم کے مسائل(۳۳) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ’’قدیم آسمانی صحیفے‘‘             قدیم آسمانی کتب(توریت انجیل وغیرہ) سے مولانا اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر میں استفادہ کیا ہے۔ اپنی تفسیر کے مقدمے میں اصلاحی صاحب مذکورہ بالا کتب کے بارے میں فرماتے ہیں :             ’’قرآن مجید میں کئی جگہ قدیم آسمانی صحیفوں تورات، انجیل، زبور کے حوالے ہیں۔ بہت سے مقامات پر انبیاء بنی اسرائیل کی سرگذشتیں ہیں۔ بعض جگہ یہود و نصاریٰ کی تحریفات کی تردید اور  ان کی پیش کردہ تاریخ پر تنقید ہے۔ ایسے مواقع پر میں نے بحث و تنقید کی بنیاد اصل ماخذ وہ یعنی تورات و انجیل پر رکھی ہے۔ ان کتب میں تحریفات کے باوجود آج بھی ان کے اندر حکمت کے خزانے ہیں۔ اگر آدمی ان کو پڑھے تو یہ حقیقت آفتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ ان صحیفوں کا سرچشمہ بھی بلاشبہ وہی ہے(تھا) جو قرآن کا ہے۔ میں ان کو بار بار پڑھنے کے بعد اس رائے کا اظہار کرتا ہوں کہ قرآن کی حکمت کو سمجھنے میں خود ان صحیفوں سے وہ مشکل ہی سے کسی دوسری چیز خاص طور پر زبور، امثال اور انجیلوں کو پڑھئے تو ان کے اندر ایمان کی وہ غذا ملتی ہے جو قرآن و حدیث کے سوا اور کہیں سے بھی نہیں ملتی(۳۴)۔ ان کتابوں کی تاریخی حیثیت کیا ہے؟ اس کے لئے ڈاکٹر محمد حمید اللّہ کی ’’خطبات بہاولپور‘‘ کے پہلے خطبے کا صفحہ پانچ، چھ اور سات پر نظر ڈالیں۔             امر واقع یہ ہے کہ اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر میں عربی لغت کے بعد اگر کسی چیز پر سب سے زیادہ اعتماد کیا ہے تو وہ کتب سماویہ(۳۵) ہیں حالانکہ قرآن کریم نے ایک سے زائد مقامات پر واضح طور پر ان کتب میں تحریفات(۳۶) کا ذکر کیا ہے۔ اس پر مزید مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لئے متعدد جگہ تورات و انجیل کے حوالے دیئے ہیں۔ لیکن جب رجم کا مسئلہ آیا تو باوجود اس کے کہ رجم کا حکم آج بھی مذکورہ بالا کتب میں باوجود تحریف کے موجود ہے(۳۷) لیکن یہاں پر آ کر اصلاحی صاحب کا زور قلم خاموش ہو جاتا ہے اور اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیرمیں جس قدر اقتباسات کتب سابقہ سے نقل کیے ہیں اس کا عشر عشیر بھی حدیث نبویﷺ اور صحابہ کرامؓ کے اقوال کے بارے میں نہیں ہے اس سب کے باوجود کچھ احباب کا اصرار ہے کہ تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ تفسیر بالماثور ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس سے اصلاحی صاحب کی ان کتب پر گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے کاش کہ وہ ایسا کتبِ حدیث کے بارے میں بھی کرتے لیکن افسوس انہوں نے اپنی تفسیر(۳۸) میں ایسا نہیں کیا حالانکہ قرآن مجید کی تفسیر حدیث نبوی کی روشنی میں کی جائے تو بہتر ہے کیونکہ حدیث تفسیر قرآن مجید کا دوسرا اہم مرجع ہے(۳۹)۔ اس اصول کو تمام متقدمین و متاخرین نے تسلیم کیا ہے اور خود مولانا صاحب نے ۱۵ دسمبر ۱۹۵۱ء کو پنجاب یونیورسٹی کے ایم -اے (اسلامیات) کے طلباء سے ایک خطاب (۴۰) فرمایا۔ اس میں مولانا نے مفسرین کے چار(۴۱) مکاتبِ فکر کا ذکر کیا ہے پھر ان کے طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :             ’’سب سے پہلے اصحاب الروایت کے طریقہ کو لیجئے اس میں شبہ نہیں کہ مذکورہ بالا تمام طریقوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور مامون طریقہ تفسیر کا یہی ہے اس طریقہ کی اصلی خصوصیت تفسیر میں رسول اﷲﷺ، صحابہ کرامؓ اور سلف کے اقوال کا اہتمام ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر کرنے کا حق رسول اﷲﷺ اور صحابہؓ سے زیادہ کسی کو ہو سکتا ہے اور نہ رسول ﷺ اور صحابہؓ کی تفسیر سے زیادہ کسی کی تفسیر صحیح ہو سکتی ہے لیکن اس طریق میں چند خرابیاں ہیں : ۱۔        تفسیر میں رسول اﷲﷺ سے بطریق مرفوع بہت کم منقول ہے۔ ۲۔       اس طرح صحابہ سے بھی تفسیر کے سلسلے میں کچھ زیادہ منقول نہیں ہے۔       ہماری تفسیر کی کتابیں بے اصل روایات سے بھری پڑی ہیں اور ان کے غلط و صحیح میں امتیاز کرنا نہایت مشکل ہے۔ ۳۔       ’’اگر ان روایات کی تحقیق و تنقید کر کے ان کے اندر جو مغز ہے ان کو الگ بھی کیا جا سکے جب بھی تنہا انہی کو تفسیر میں فیصلہ کُن چیز قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ روایات صحت کے معیار پر پوری اترنے کے بعد بھی ظن کے شائبہ سے پاک نہیں ہو سکتی ہیں۔ اس لئے اگر قرآن کریم کی تفسیر میں تنہا انہی کو فیصلہ کُن چیز مان لیا جائے تو قرآن مجید کی قطعیت کو نقصان پہنچے گا اور یہ چیز کسی طرح بھی گوارا نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے دلائل و شواہد کے ساتھ مل کر تو بلاشبہ یہ روایات قرآن مجید کی صحیح مفہوم کی تعین میں بہت زیادہ مددگار ہو سکتی ہے۔ لیکن تنہا انہی کی مددسے کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا(۴۲)۔             اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مولانا اصلاحی صاحب نظریاتی طور پر حدیث رسولﷺ کو قرآن مجید کی تفسیر کا ایک اہم مصدر سمجھتے ہیں لیکن عملاً اسے وہ حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جو انہوں نے اپنے بیان کردہ دیگر اصول تفسیر کو دی ہے، مثال کے طور پر مولانا اصلاحی صاحب کی مذکورہ بالا تنقید کا تیسرا پیرا گراف ہی کافی ہے۔             مولانا اصلاحی صاحب جب تحقیق شدہ روایات کو قرآن کریم کی تفسیر میں فیصلہ کُن حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں تو اسی سے بآسانی یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ و تابعین کے اقوال کو بھی کس قدر اہمیت دیتے ہوں گے اور اس کا نتیجہ ہے کہ اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر میں حضرت ماعز(۴۳) اسلمی اور غامدیہ(۴۴) جیسے صحابہ کرام کے بارے میں جو الفاظ لکھے ہیں ہمارا قلم ان الفاظ کو نقل کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ’’شانِ نزول اور تدبر قرآن‘‘             شانِ نزول کے بارے میں مولانا اصلاحی صاحب نے اپنے استاد محترم جناب فراہی کے مسلک کی پیروی کی ہے جو فراہی صاحب نے اپنی تفسیر’’نظام القرآن‘‘ کے مقدمہ میں بیان کیا ہے۔ در اصل یہی مؤقف ان حضرات سے پہلے علامہ جلال الدین سیوطیؒ(۹۱۰ھ) نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ میں علامہ زرکشی سے نقل کیا ہے جو انہوں نے ’’ابرھان فی علوم القرآن‘‘ میں تحریر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:             ’’صحابہ و تابعین رضی اللّہ عنھم کی عادت یہ تھی کہ جب وہ یہ کہتے ہیں فلاں آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آیت اس حکم پر مشتمل ہے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بعینہ وہ بات اس آیت کے نزول کا سبب ہی ہے یہ گویا اس حکم پر اس آیت سے ایک قسم کا استدلال ہوتا ہے۔ اس سے مقصود نقل واقعہ نہیں ہوتا‘‘(۴۵)۔ تدبر قرآن اور اسرائیلیات             تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ اس لحاظ سے دوسری بہت سی قدیم اور جدید تفاسیر سے ایک ممتاز مقام رکھتی ہے کہ اس میں ان اسرائیلیات سے مکمل اجتناب کیا گیا ہے جن سے عصمت انبیاء داغدار ہوتی تھی یا بے سروپا لغو عبارات جو اخلاقی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔ اور تفسیر کے سلسلے میں بات کو صرف اس حد تک محدود رکھا گیا ہے جس پر قرآنی الفاظ دلالت کرتے تھے۔ ان روایات میں اکثر کا تعلق چونکہ انبیاء علیھم السلام سے ہے اس لئے اصلاحی صاحب نے بڑی خوبصورتی اور کامیاب طریقے سے عصمت انبیاء کا دفاع کیا ہے۔ نسخ کے بارے میں اصلاحی صاحب کا مؤقف             نسخ القرآن کے بارے میں اصلاحی صاحب کے مؤقف کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اس کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس میں بہت زیادہ وسعت کے قائل ہیں بلکہ اس سلسلے میں انہوں نے اعتدال کی راہ اختیار کی ہے البتہ نسخ قرآن کی اقسام کے بارے میں وہ صرف نسخ القرآن بالقرآن کے قائل ہیں (۴۶)۔ جو جمہور مفسرین کے رائے ہیں اور نسخ القرآن بالسنہ کے قائل نہیں ہیں (۴۷) یہ مؤقف اس سے پہلے جن آئمہ کرام نے اپنا  یا ان میں امام محمد  بن ادریس الشافعی(۴۸) کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ نظم (ربط) قرآن کے بارے میں اصلاحی صاحب کا مؤقف             مولانا اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں  ’’نظم قرآن‘‘ پر بہت زور دیا ہے اور پورے قرآن مجید کی تفسیر اس نظم(ربط) کی روشنی میں کی ہے۔ اصلاحی صاحب سے پہلے جن مفسرین نے اپنی تفاسیر میں نظم کو ذکر کیا ہے۔ اصلاحی صاحب اپنے استاد فراہی صاحب کے سوا کسی سے مطمئن نظر نہیں آتے اس کی وجہ وہ فرماتے ہیں :             ’’ایک تو یہ نظم قرآن کی تلاش ہے ہی ایسا کام کہ ہر شخص اس کو ہ کنی کے لئے اپنی زندگی وقف نہیں کر سکتا۔ دوسرے جن لوگوں نے نظم قرآن کا دعوٰی کیا ہے ان کی خدمات کے اعتراف کے باوجود کہنا پڑتا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں پیش کر سکے جو اس راہ میں قسمت آزمائی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بڑھائے(۴۹)۔             مولانا اصلاحی  صاحب سے پہلے جن مفسرین نے اپنی تفاسیر میں نظم کا خیال رکھا ہے ان میں امام رازی کی تفسیر کبیر اور علامہ مخدوم مہائمی کی تفسیر ’’تبصیر الرحمن و تیسیر المنان‘‘ جو تفسیر مہائمی کے نام سے مشہور ہے۔ کا ذکر اصلاحی صاحب نے کیا ہے کہ یہ تفسیریں میرے مطالعے میں رہتی ہیں ان کے بعد فرماتے ہیں :             ’’میں بلا کسی تحقیر کے عرض کرتا ہوں کہ ان میں سے کسی کی کتاب سے بھی مجھے کسی مشکل کے حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ یہ حضرات جس قسم کا نظم بیان کرتے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس قسم کا نظم ہر دو غیر متعلق چیزوں میں جوڑا جا سکتا ہے‘‘(۵۰)۔             اصلاحی صاحب فرماتے ہیں :             ’’اس راہ میں سب سے پہلی کامیاب کوشش کی سعادت میرے استاز عبد الحمید فراہی کو حاصل ہوئی‘‘(۵۱)۔             اصلاحی صاحب فرماتے ہیں کہ قرآن کریم ایک مربوط اور منظم کتاب ہے۔اس کی ہر سورۃ کی تمام آیات آپس میں گہرا ربط رکھتی ہیں جن کو انہوں نے اپنی تفسیر میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس نظریہ کو مزید آگے بڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ایک سورۃ کی تمام آیات آپس میں مربوط و منظم ہیں۔اسی طرح ہر دو سورتیں بھی آپس میں گہرا ربط رکھتی ہیں جس کو وہ ’’زوج‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک سورۃ میں ایک مضمون کا ایک حصہ بیان ہوا ہے تو دوسری سورۃ میں اسی مضمون کا بقیہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض اوقات ایک سورۃ میں اجمال ہو گا تو دوسری سورۃ میں تفصیل ہو گی۔             اس سے بھی ایک قدم آگے وہ فرماتے ہیں :’’قرآن کریم میں مجموعی بھی ایک مخصوص نظام ہے جس کا ایک پہلو بالکل ظاہر ہے جو ہر شخص کو نظر آتا  ہے؛ لیکن اس کا ایک پہلو مخفی ہے جو غور و خوض اور تدبر سے سامنے آتا ہے‘‘(۵۲)۔             قرآن مجید کے مجموعی ظاہری نظام کے بارے میں اصلاحی صاحب کا کہنا ہے کہ اس ترتیب میں ’’مکی‘‘ و ’’مدنی‘‘سورتوں کے ملے جلے سات گروپ ہیں ؛ جن میں سے ہر ایک گروپ ایک یا ایک سے زائد ’’مکی‘‘ سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک  یا ایک سے زائد ’’مدنی‘‘ سورتوں پر تمام ہوتا ہے ہر گروپ میں پہلے ’’مکی ‘‘ اور بعد میں ’’مدنی‘‘ سورتیں ہیں ‘‘(۵۳)۔             اصلاحی صاحب نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کی درج ذیل آیات سے استدلال کیا ہے:             ۱۔ و لقد اتیناک سبعا من المثانی و القرآن العظیم‘‘(۵۴)۔             ۲۔ اللہ نزل احسن الحدیث کتاباً متشابھا  مثانی۔۔۔الخ(۵۵)۔             اصلاحی صاحب کا فرمانا ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں ’’سبع مثانی‘‘ اور ’’متشابھا مثانی‘‘ سے مراد بھی سات گروپ ہیں۔             حالانکہ پہلی آیت کی تفسیر میں مفسرین نے ایک سے زائد اقوال نقل کئے ہیں۔ ابن کثیر ؒ نے تو رسولِ  اکرم ﷺ کی حدیث نقل کی ہے کہ اس آیت میں سبع مثانی سے مراد سورۃ فاتحہ ہے(۵۶)۔لیکن اصلاحی صاحب کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے ’’سبع مثانی‘‘ سے سورۃ فاتحہ مراد لی ان کا موقف بھی صحیح ہے لیکن اس کا اپنا ایک محل ہے کیونکہ سورۃ فاتحہ کی سات آیات تب پوری ہوتی ہیں اگر بسم اللہ کو بھی اس کا حصہ شمار کیا جائے جبکہ اس کے سورۃ فاتحہ کا جزء ہونے کے بارے میں اختلاف ہے مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء کی رائے میں یہ قرآن کریم کی سورتوں میں سے کسی سورۃ کی بھی (بشمول سورۃ فاتحہ) آیت نہیں ہے جبکہ ہر سورۃ کے شروع میں اس کو محض تبرک اور اسے علامت فصل کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اس سے ایک سورۃ دوسری سے ممتاز بھی ہو جاتی ہے یہی امام ابو حنیفہ کا مسلک ہے‘‘۔             ’’اس کے برعکس مکہ اور کوفہ کے فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ یہ سورۃ  فاتحہ کی ایک آیت بھی ہے اور دوسری سورتوں کی بھی ایک آیت ہے۔ یہ مذہب امام شافعی ؒ اور ان کے اصحاب کا ہے۔ اور میرے( اصلاحی)  نزدیک قراء مدینہ کا مذہب قوی ہے‘‘ (۵۷)۔ خلاصہ یہ نکلا کہ قراء اہل مدینہ کی رائے کے مطابق بسم اللہ سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں ہے اس لئے ان کے نزدیک سورۃ فاتحہ کی آیات کی تعداد چھ (۶) ہوئی جبکہ قرآن کریم کی آیت میں (سبع)  سات کا ذکر ہے لہذا اصلاحی صاحب نے اس کا مصدر ان سات گروپوں کو قرار دیا ہے۔ یہ اصلاحی صاحب کا (تفرد)اجتہاد ہے اس سے پہلے کسی مفسر نے اثبات نظم کے لئے یہ نظریہ پیش نہیں کیا۔ اصلاحی صاحب نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر یہاں حسبِ  عادت حدیث کو چھوڑ دیا ہے۔             اصلاحی صاحب نے ان گروپوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے: ’’ جس طرح ہر سورۃ کا ایک خاص عمود (اہم مضمون) ہوتا ہے جس سے سورہ کے تمام اجزائے کلام وابستہ ہوتے اسی طرح ہر گروپ کا بھی ایک عمود ہوتا ہے۔ اور اس گروپ کی تمام سورتیں اسی جامع عمود کے کسی خاص پہلو کی حامل ہوتی ہیں۔ مطالب اگرچہ ہر گروپ میں مشترک ہیں لیکن اس اشتراک کے ساتھ جامع عمود کی چھاپ ہر گروپ پر نمایاں ہے مثلاً کسی گروپ میں قانون و شریعت کا رنگ غالب ہے، کسی میں ملت ابراہیم کی تاریخ اور اس کے اصول و فروع کا کسی میں کشمکش حق و باطل اور اس کے بارے میں سنن الہیہ کے بیان کا حصہ نمایاں ہے۔ کسی میں نبوت و رسالت اور اس کے خصائص و امتیازات کا ، کسی میں توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کسی میں بعث، حشر و نشر کے متعلقات اور آضری گروپ منذرات کا ہے‘‘(۵۸)۔             خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصلاحی صاحب کے نزدیک ’’نظم ؒ قرآن ‘‘ کی تین صورتیں ہیں :             ۱۔ ہر سووۃ کا اندرونی نظم جس سے وہ سورۃ منظم و مربوط نظر آتی ہے۔             ۲۔ایک سورۃ کا دوسری سورۃ کے ساتھ مل کر مشترک نظم یعنی ان دونوں سورتوں کا بعض اہم نکات میں اشتراک جو ان کے نظم پر دلالت کرتا ہے۔             ۳۔ ہر گروپ کا ایک مشترک عمود جس سے پورا قرآن مجید منظم و مربوط معلوم ہوتا ہے۔

فقہی مسائل کے بارے میں اصلاحی صاحب کا منہج             اصلاحی صاحب نے اپنی تفسیر میں فقہی مسائل بہت کم ذکر کئے ہیں۔ اکثر و بیشتر مقامات پر بات کو اسی حد تک محدود رکھا ہے جس پر قرآنی آیت دلالت کرتی ہیں ، تاہم بعض مقامات پر انہوں نے جمہور علماء کرام سے اختلاف کرتے ہوئے الگ  اپنی رائے قائم کی ہے اور اس سلسلے میں صحیح احادیث  کو بھی ترک کر دیا ہے جس میں ’’مطلقہ ثلاث‘‘ کی اپنے پہلے خاوند کے لئے حلت کی شرط کیا صرف کسی دوسرے آدمی سے عقدِ نکاح ہے ؟ یا نکاح کے بعد مباشرت بھی ضروری ہے؟ اصلاحی صاحب صرف نکاح کو حلت کے لئے کافی خیال کرتے ہیں (۵۹)  حالانکہ صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مباشرت بھی ضروری ہے۔ (۶۰)۔ لیکن اصلاحی صاحب نے اس مسئلے میں صحیح حدیث کو ترک کر کے صرف عقل اور لغت پر اعتماد کیا ہے۔ اور اس سلسلے کی دوسری واضح مثال شادی شدہ زانی کے رجم کا مسئلہ ہے اس میں وہ سورۃ نور کی آیت دو  [۲]  (۶۱) کے مطابق ہر قسم کے زانی کے لئے صرف سو [۱۰۰] کوڑوں کی سزا کے قائل ہیں (۶۲)۔ حالانکہ جمہور مفسرین نے صحیح احادیث کی روشنی میں شادی شدہ زانی اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں ان کی سزا میں فرق کیا ہے  کہ اول الذکر کی سزا رجم ہے اور مؤخر الذکر کی سزا سو [۱۰۰] کوڑے ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اصلاحی صاحب اس سلسلے میں نسخ اور تخصیص میں فرق کے بھی قائل نہیں ، اور جو حضرات محصن زانی کے رجم کے قائل ہیں وہ حدیث کی بناء پر سورۃ نور کی آیت دو[۲] کی تخصیص کے قائل ہیں نہ کہ نسخ کے۔             اصلاحی صاحب کا کہنا ہے کہ اگر شادی  شدہ زانی کو رجم کی سزا دی جائے تو اس سے سورۃ نور کی آیت دو [۲] میں بیان کی گئی زانی کے سو [۱۰۰] کوڑے کی سزا منسوخ ہو جائے گی اور قرآن مجید کا نسخ حدیث نبوی ﷺ سے بالکل جائز نہیں ہے۔ نیز ان کا فرمانا ہے آپ خواہ مذکرہ صورت میں تخصیص ہی کہیں لیکن بہرحال نسخ ہی ہو گا(۶۳)۔             اصلاحی صاحب کا فرمانا ہے کہ میں نسخ کا منکر نہیں ہوں لیکن اس کے محصن زانی کے لئے خاص ہونے کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ سزا حدیث نبوی ﷺ کی بجائے خود قرآن مجید سے ثابت ہے جس کے لئے انہوں نے سورۃ المائدہ کی آیات محاربہ (۳۴۔۳۳) (۶۴) سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ رجم کی سزا ایسے عادی مجرموں کے لئے ہے جو معاشرے کے لئے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں (۶۵)۔             یہ بھی اصلاحی صاحب کا تفرد ہے ورنہ مذکورہ بالا آیات  سے کسی مفسر نے محصن زانی کے لئے رجم کا اثبات نہیں کیا بلکہ تمام مفسرین نے رجم کا اثبات حدیث نبوی سے کیا ہے (۶۶)۔             اصلاحی صاحب کا معاملہ اس اعتبار سے اور بھی عجیب ہے کہ وہ چور کی سزا قطع ید کے بارے میں تو حدیث نبوی کی بناء پر سورۃ المائدۃ کی آیت(۳۸)  والسارق والسارقۃ۔۔۔الخ کی تخصیص کے قائل ہیں اور یہ موقف انہوں نے  درسِ  حدیث میں اختیار کیا ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ یہ سزا ہر قسم کے چور کے لئے نہیں ہے بلکہ حدیث نبوی کی روشنی میں اس کی شرط یہ ہے کہ مسروقہ مال کی قیمت ربع دینار سے کم ہو تو اس پر قطع ید کی سز ا نافذ نہیں ہو گی(۶۸)۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ چور کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر تعزیر نافذ ہو گی‘‘۔             خلاصہ ء کلام یہ ہے کہ نظریاتی طور پر تو اصلاحی صاحب قرآن مجید کی تفسیر و بیان کا حق رسولِ  اکرم ﷺ کو دیتے ہیں لیکن مذکورہ بالا مسائل میں وہ یہ حق اپنے لئے مخصوص کرتے ہیں۔             وآخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین۔ ٭٭٭     حواشی ۱۔         محترم جاوید احمد غامدی کا مکتوب بنام راقم مورخہ ۱۵ فروری ۱۹۹۰ء۔ ۲۔        مدرسۃ الاصلاح قصبہ سرائے میر ضلع اعظم گڑہ (یو۔پی۔ انڈیا) میں ایک دینی درس گاہ ہے یہ درس گاہ مولانا عبد الحمید فراہی اور علامہ شبلی نعمانی کے نظریات پر قائم ہے ادب عربی اور قرآن کریم کی محققانہ تعلیم اس کا خاص مطمع نظر ہے۔ مولانا فراہی اس مدرسہ کے ابتدائی قیام سے اس کے ناظم اعلیٰ تھے۔ (مولانا فراہی کے حالات زندگی ص: ۱۲۔             مجموعہ تفاسیر فراہی، فران فاؤنڈیشن، لاہور۔ ۳۔        مولانا فراہی ضلع اعظم گڑہ (یو۔ پی۔ انڈیا) کے ایک گاؤں پریہا میں ۱۲۸۰ھ پیدا ہوئے اور ۱۹ جمادی الثنی ۱۳۴۹ھ بمطابق ۱۱  نومبر ۱۹۳۰ء میں فوت ہوئے۔ مجموعہ تفاسیر فراہی۔ص: ۱۲۔ ۴۔        فراہی در اصل ’’پریہا‘‘  کی نسبت ہے۔ یہ گاؤں ضلع اعظم گڑہ کے مضافات میں ۱۰ میل کے فاصلے پر ہے۔ (مولانا فراہی کی جائے پیدائش اور اس کی نسبت۔ ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی ، ص: ۱۳۶۔ مجلہ علوم القرآن، جولائی ــ۔۔دسمبر ۱۹۸۵ء اعظم گڑھ انڈیا۔ ۵۔        مولانا اصلاحی صاحب فرماتے ہیں کہ :’’ مولانا عبد الحمید فراہی ‘‘بھی ہے اور حمید الدین فراہی بھی۔ مؤخر الذکر چونکہ عربی قاعدے کی رو سے لقب ہے اور لقب کے اظہار میں خود نمائی کا شائبہ آتا ہے۔ اس وجہ سے مولانا نے اپنا نام مقدم الذکر رکھنے کو ہی ترجیح دی۔ اور اپنی کتب پر بھی  یہی نام لکھواتے تھے۔مجموعہ تفاسیر فراہی، ص: ۷۔ ۶۔        نزھۃ الخواطر، عبد الحی حسنی (م: ۱۹۲۳ء) ۸۔۳۴۳۔ ۳۴۲۔نور محمد اصح المطابع کتن خانہ تجارت، کراچی، ۱۳۹۶ھ۔ ۷۔       سنن ترمذی لأبی عیسی محمد بن عیسی بن سورہ (۲۷۹ھ۔ ۲۰۹ھ) تذکرۃ الحفاظ للذھبی ۳۔ ۲۸۳۔ ۸۔        مولانا اصلاحی صاحب نے ۱۹۳۱ء میں مولانا مبارک پوری سے سنن ترمذی پڑھی (مبادیء یدبر حدیث ، ص: ۱۴)۔ ۹۔         سید ابو الاعلی مودودی  ’’ دعوت و تحریک ‘‘ سید اسعد گیلانی طبع لاہور۔ ۱۰۔       مولانا مودودی صاحبؒ کے ساتھ اصلاحی کے اختلافات کے اسباب کے لئے اصلاحی صاحب کی کتاب ’’مقالات اصلاحی‘]‘ جلد اول باب دوم کا مطالعہ کریں ، یہ کتا ب فران فاؤنڈیشن لاہور سے جناب ماجد خاور نے شائع کی ہے۔ ۱۱۔        مالک: ھو أبو عبد اللہ مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر الاصبحی۔ امام دار الہجرہ و شیخ المدینہ و عالم اہم الحجاز۔ (۹۳۔ ۱۹۷ھ۔ وفیات الأعیان ۳۔۲۸۴، صفۃ الفصوۃ ۲۔ ۹۹۔ ۱۲۔       تألیف محمد بن اسماعیل البخاری المتوفی: ۲۵۶ھ۔ ۱۳۔       یہ رسالہ ۱۹۸۰ء میں ادارہ تدبر قرآن و حدیث لاہور مولانا اصلاحی صاحب کی نگرانی میں شائع ہونا شروع ہوا۔ جناب خالد مسعودصاحب اس کے مدیر تھے۔ خالد صاحب کا انتقال مورخہ ۴، اکتوبر ۲۰۰۳ء کو لاہور میں ہوا۔ انا للہ و انا الیہ رجعون۔ ۱۴۔       مکتوب محترم خالد مسعود بنام راقم مورخہ ۸ فروری ۱۹۹۶ء۔ ۱۵۔       مولانا اصلاحی صاحب کی تألیفات کی فہرست:             ۱۔ تفسیر تدبرِ  قرآن۔ جون ۱۹۸۵ء میں اس کا پاچواں اڈیشن فاران فاؤنڈیشن لاہور سے طبع ہوا۔             ۲۔ مبادیء تدبر قرآن۔ یہ کتاب بھی جون ۱۹۸۵ء میں مذلرہ فاؤنڈیشن نے شائع کی۔             ۳۔ حقیقت شرک و توحید۔ ۴۔ حقیقتِ  نماز۔ ۵۔ حقیقت تقوی۔  ۶۔ تزکیہ نفس۔ ۷۔ دعوتِ  دین اور اس کا طریقِ  کار۔ ۸ مبادیء تدبر حدیث۔ ۹۔ اسلامی قانون کی تدوین۔ ۱۰۔ اسلامی ریاست۔ ۱۱۔ اسلامی ریاست میں فقہی اختلافات کا حل۔ ۱۲۔ اسلامی معاشرے عورت کا مقام۔  ۱۳۔ قرآن میں پردے کے احکام۔  ۱۴۔ تنقیدات۔  ۱۵۔ تقضیحات۔  ۱۶۔ مقالاتِ  اصلاحی۔  ۱۷۔ عائلی کمشن کی رپورٹ پر تبصرہ۔  ۱۸۔ تفہیمِ  دین۔  ۱۹۔ فلسفہ کے بنیادی مسائل قرآن کریم کی روشنی میں۔             اس کے علاوہ انہوں نے درج ذیل کتب کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا جو اب شائع ہو چکا ہے:             ۱۔ مجموعہ تفاسیرِ  فراہی۔ ۲۔ اقسام القرآن۔ ۳۔ ذبیح کون ہے؟ ۱۶۔       اس تفسیر کا نام ’’نظام القرآن و تأویل الفرقان بالفرقان‘‘ ہے۔ ۱۷۔      اس میں فراہی صاحب نے درج ذیل سورتوں کی تفسیر عربی میں لکھی تھی:             ۱۔ تفسیر بسم اللہ۔ ۲۔ تفسیر سورۃ الفاتحہ۔ ۳۔ تفسیر سورۃ الزریت۔ ۴۔ سورۃ التحریم۔ ۵۔ سورۃ قیامہ۔ ۶۔ سورۃ المرسلات۔۷۔ سورۃ عبس۔ ۸۔ سورۃ الشمس۔ ۹۔ سورۃ التین۔ ۱۰۔ سورۃ العصر۔ ۱۱۔ سورۃ الفیل ۱۲۔ سورۃ الکوثر۔ ۱۳۔ سور ۃ الکافرون۔۱۴۔ سورۃ اللہب۔ سورۃا لاخلاص۔ اس آخری سورۃ کی تفسیر فراہی صاحب نے اردو میں لکھی تھی۔ ۱۸۔       یہ رسالہ مولانا اصلاحی نے سرائے میر میں اپنے قیام کے داران جاری کیا تھا۔ ۱۹۔       مقدمہ تدبرِ  قرآن ص:۲۔ ۲۰۔      مولانا اصلاحی نے تین تفسیروں کے نام ذکر کئے ہیں جو آگے آ رہے ہیں۔ ۲۱۔       مقدمہ تدبر قرآن، ص: ۱۵۔ ۲۲۔      شذرات الذھب: ۲۔ ۲۶۰۔ و الکامل فی التاریخ لانب الاثیر ۸۔ ۱۳۶۔ و النجوم الزاھرۃ ۳۔ ۲۵۰۔ ۲۳۔      الطبقات الشافعیۃ ۸۔ ۹۶۔۸۱۔ و طبقات المفسرین للسیوطی، : ۱۱۵۔ وطبقات المفسرین للداودی۲۔ ۲۲۔۲۱۳۔ و میزان الاعتدال : ۳۔ ۳۷۰۔ و لسان المیزان ۴۔ ۴۲۹۔ ۴۲۶۔ و النجوم الزاھرۃ : ۶۔ ۹۸۔ ۱۹۶۔ ۲۴۔      وفیات لاأعیان: ۵۔ ۱۷۴۔ ۱۶۸۔ و اطبقات المفسرین للسیوطی، : ۱۲۔ و شذرات الذھب ۴۔ ۱۱۹۔ ۱۱۸۔و النجوم الزاھرۃ : ۶۔ ۹۸۔ ۱۹۶۔ ۲۵۔      تقدیم طبع دوم، مجموعہ تفاسیر فراہی۔ طبع ۱۹۹۱ء۔ ۲۶۔      تدبر ۱۔ ۳۲۔ ۲۷۔     یہ نظم (ربط) قرآن پر مولانا فراہی کی ایک مختصر کتاب ہے جو دائرہ حمیدیہ سرائے میر اعظم گڑہ انڈیا سے شائع ہوئی ہے۔ ۱۸۔       اس کاتب میں مولانا فراہی نے قرآن مجید کے بعض مشکل الفاظ جن کے بارے میں وہ دوسرے مفسیر ین  اور عام اہم لغت سے اختلاف رکھتے ہیں تحقیق کی ہے۔

٭٭٭ ماخذ: بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی جرنل سے