اتوار، 24 جنوری، 2016

معرفت تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن

مولانا وحید الدین صاحب کی کتاب معرفت   تصوف و تز کیہ کا جدید لہجے کا ورژن عمدہ کتاب ھے ۔اس میں جو بات مجھے گھائل کر گئ وہ یہ کہ اللہ کے سامنے اپنی بے بسی کا یقین و اظہار ہی سب سے بڑی متاع بندگی ھے   اور کیوں نہ ہو کہ بے بسی اور عاجزی ہی وہ متاع ھے جو اللہ کے پاس نہیں اور جب کسی کو ایسا تحفہ پیش کیا جائے جو اس کے پاس نہ ہو تو اس کی قدر افزائ میں کوئ کسر نہیں اٹھا رکھی جاتی ۔
البتہ مجھے الجھن یہ ہوئ کہ معرفت اور ایمان کا باہمی کیا تعلق ھے ۔قرآن نے یہود کے بارے میں کہا ھے کہ یعرفونہ کما یعرفون ابنائھم لیکن یہ معرفت ایمان نہیں تھی علم تو معرفت کا نچلا درجہ ھے  غالبا ایمان کا درجہ معرفت سے اوپر کا ھے یعنی ترتیب صعودی یہ ہوگی
   جاننا   یعنی علم
پہچاننا یعنی معرفت
ماننا یعنی ایمان

(ڈاکٹر طفیل هاشمی)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں