جمعہ، 29 جنوری، 2016

امام ابن ماجہ اور علمِ حدیث


مولانا محمد عبدالرشید نعمانی رحمہ اللہ
تبصرہ: ماہر القادری
فاران جولائی 1961ء
نوٹ: تبصرہ کے تمام مندرجات سے اتفاق ضروری نہیں.

"مولانا عبدالرشید نعمانی ایک ثقہ اور وسیع المطالعہ عالم ہیں، جن کا قلم علمِ دین کی خدمت کے لئے وقف ہے! یہ کتاب ان کی گراں قدر تالیف ہے، جس میں "عہدِ رسالتؐ سے لے کر امام ابن ماجہ کے زمانہ تک کی تاریخِ تدوینِ حدیث اور امام ممدوح کی "کتابِ سنن ابن ماجہ" پر تفصیلی تبصرہ ملتا ہے۔
اس کتاب میں امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوانحِ زندگی کے علاوہ ان کی مشہور کتاب "سنن ابنِ ماجہ" پر بڑی تفصیل اور سیر حاصل بحث ہے، ساتھ ہی قزوین، مکہ معظمہ، کوفہ، بصرہ، بغداد، واسط، سامراء، دمشق، حمص، عسقلان، رملہ، ایلہ، بیت المقدس، مصر، رقہ، حران، الواز، رئے، اصفہان، ہمدان، وافغان، نیشاپور اور بلخ وغیرہ شہروں کے علمائے حدیث کے مختصر حالات درج ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حدیث کیا ہے؟ اور اس کی دینی حیثیت کیا ہے؟ کتابتِ حدیث، حفظِ حدیث اور تدوینِ حدیث کب ہوئی اور کس طرح ہوئی؟ علمِ حدیث کی طلب و جستجو میں مشاہیر اور شیوخ نے کتنی محنتیں کیں اور کیسے کیسے طویل سفر کئے؟
کتاب کے آخری ابواب یہ ہیں:
"سننِ ابن ماجہ کی نمایاں خصوصیات"
"صحت کے اعتبار سے ابنِ ماجہ کا درجہ"
"ابنِ ماجہ کے تلامذہ"
اور
"سننِ ابنِ ماجہ پر شروح و تعلیقات"
حضرت امام ابوحنیفہ ہوں یا حضرت امام بخاری، ان میں سے کوئی بھی معصوم نہ تھا، مگر غالی اہلِ حدیث کو امام ابوحنیفہ پر طنز کرنے اور متشدد احناف کو امام بخاری کی غلطیاں پکڑنے سے خاص شغف رہا ہے، اس کی جابجا جھلکیاں اس کتاب میں ملتی ہیں۔۔۔ مثلاً:
"۔۔۔امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم نے تاریخ و رجال کے تاریخی اوہام کے سلسلہ میں امام بخاری کی بہت سی غلطیاں نکالی ہیں، حافظ ابن ابی حاتم نے امام بخاری کے تاریخی اوہام پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے:"أخطاء البخاری"
اور
"۔۔۔۔۔بخاری نے ان کے یہاں اس عقیدہ کا اظہار کیا کہ قرآن پاک کے جو الفاظ ان کے منہ سے نکلتے ہیں وہ مخلوق ہیں، تو ان دونوں حضرات (امام ابوحاتم اور ابوزرعہ) نے بخاری کی حدیث کو ترک کردیا۔" (بحوالہ کتاب الجرح و التعدیل)
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ "کتاب الآثار" کے بعد حدیث کا دوسرا صحیح مجموعہ جو اس وقت امت کے ہاتھوں میں موجود ہے، وہ امام دارالہجرۃ مالک بن انس کی مشہور تصنیف موطا ہے۔۔" اس صورت میں فاضل مولف کے لکھنے کے مطابق "صحیح امام بخاری" نہ جانے احادیث کے کتنے مجموعوں کے بعد کی کتاب قرار پاتی ہے۔
"یہ واضح رہے کہ ضعیف روایتیں سنن ابن ماجہ ہی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ صحاحِ ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں، فرق اتنا ہے کہ ان میں کم ہیں اور اس میں زیادہ ہیں، اور ان کتابوں کو جو "صحاح ستہ" کہا جاتا ہے محض تغلیباً ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کی ہر روایت صحیح ہے۔" (صفحہ241)
"صحیح بخاری" کے بارے میں قریب قریب یہی بات مولانا مودودی نے کسی تقریر میں کہہ دی تھی تو اہلِ حدیث کے بعض رسالوں اور اخبارو ں میں ان کے خلاف ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔
فاضل مولف نے لکھا ہے کہ اس غلط فہمی میں ملاجیون، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے اکابر مبتلا ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ کی سرے سے کوئی کتاب ہی موجود نہیں ہے، موصوف نے ثابت کیا ہے کہ "کتاب الآثار" امام ابوحنیفہ کی تصنیف ہے۔
مولانا عبدالرشید نعمانی نے علمائے حدیث کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام مالک کی موطا کو صحیحین پر ترجیح ہے، اس لئے کہ امام مالک کی خصوصیت ہے کہ وہ کسی بدعتی سے خواہ وہ کیسا ہی پاک باز اور راست باز ہو حدیث کی روایت کے روادار نہیں، برخلاف اس کے صحیحین میں مبتدعین کی روایات (بشرطیکہ وہ ثقہ اور صادق اللہجہ ہوں) بکثرت موجود ہیں۔"
"۔۔۔۔لیکن اس سلسلہ میں شاہ صاحب (ولی اللہ) کے قلم سے بعض ایسی باتیں نکل گئی ہیں جو خلاف واقعہ ہیں۔۔۔"(صفحہ180)
وفات پائے ہوئے اسلاف اور بزرگوں کے تسامحات پر نقد و احتساب کی اس جرءت سے اگر اخلاف عام طور پر کام لیتے تو امت بہت سی غلط فہمیوں بلکہ فتنوں سے محفوظ رہتی۔
فاضل مؤلف نے بڑی تحقیقی بات کہی ہے کہ :
"غرض ابھی دوسری صدی ختم نہ ہونے پائی تھی کہ علمِ حدیث میں بکثرت تصانیف مدون ہو کر شائع ہوچکی تھیں اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے تلامذہ نے تمام عالم اسلام کو فقہ و حدیث سے معمور کردیا تھا، اسی صدی میں فقہ حنفی اور فقہ مالکی کی تدوین احادیث و آثار کی روشنی میں مکمل ہوئی۔۔۔یہ وہ زمانہ ہے کہ امام بخاری اور مسلم اور دوسرے مصنفینِ صحاحِ ستہ بھی پیدا نہیں ہوئے تھے اربابِ صحاحِ ستہ نے بیشتر انہی دونوں اماموں کے تلامذہ یا تلامذہ کے تلامذہ سے علم حدیث کی تحصیل کی۔"(ص198)
کوئی شک نہیں یہ کتاب علمی مواد اور تحقیق کے اعتبار سے اپنے موضوع پر گراں قدر اور بلند پایہ ہے، جس سے عوام و خواص سبھی استفادہ کرسکتے ہیں!".

بشکریہ پیج "ماھر القادری"

1 تبصرہ:


  1. شاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔

    تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
    اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
    "انفاس العارفین" میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف غلیظ سازش اور کفر ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔

    قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
    یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .



    تفاسیر کا جہنم.....
    تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب، جلالین ، ابن کثیر ،
    قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
    تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
    دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر ہیں ۔


    حدیث ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہزاروں کوفی، بصری، بغدادی، خراسانی، ایرانی زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔
    اس جنگل میں ماہر شکاری کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ۔
    یہ روایت "فتنہ انکار قرآن" کی ابتدا ہے۔
    اگر ابوحنیفه، مالک، شافعی، ابن حنبل، اوزاعی، زید، جعفر صادق اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کریں کہ گدھے، خنزیر اور ہاتھی کا پاخانہ کھایا جائے تو کیا تمام دیوبندی، اہل حدیث، سلفی، شیعوں کو کھانا چاہیے؟ حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، شفیع عثمانی، احمد رضا بریلوی ان غلیظ روایتوں کو کیسے منظور کر سکتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں