''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر'' مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ کی اصول تفسیر پر ایک مایہ ناز شرح ہے، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی اصول تفسیر پر عربی میں ایک شہرہ آفاق اور مقبول عام تصنیف ہے جس کی اردو شرح ”عون الخبیر“ کے نام سے 713 صفحات پر مشتمل 2005ء میں شائع ہو کر منظر عام پر آئی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اردوزبان میں الفوز الکبیر کی اتنی تفصیلی اور ضخیم شرح پہلی بار شائع ہوئی ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا،یہ اصل میں مفسر قرآنؒ کی وہ تقریر ہے جو طلباء کرام کو پڑھاتے وقت ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لی گئی تھی جسے بعد میں صفحہء قرطاس پر منتقل کر کے اہل علم، طلباء و معلمین کے استفادہ کیلئے ادارہ نشرو اشاعت جامعہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے، الفوز الکبیر صدیوں سے تمام مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں شامل ہے، اس کی شرح کی اشاعت کو اہل علم کے ہاں بے حد قدر کی نگا ہ سے دیکھا گیا ہے ــــــــــــ
آنلائن پڑھنے اور ڈاؤنلوڈ کرنے کیلئے کلک کیجیے.
اس بلاگ میں مختلف کتب , رسائل و جرائد کا تعارف , نقد و تبصره یا ان سے متعلقه مواد کی اشاعت پیش نظر هے. مقصد ذوق کتاب بینی ,معلومات میں اضافه اور مطالعے پر ابھارنے کا سامان کرناهے.
منگل، 26 جنوری، 2016
عون الخبیر شرح الفوز الکبیر فی اصول التفسیر
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
جواب دیںحذف کریںشاہ ولی اللہ دہلوی کی الہامات کی کہانیوں سے ہزاروں صوفیاء اور اہل تصوف متاثر ہوئے۔ یہ تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف ہیں۔
تمام دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سلفی شاہ ولی اللہ دہلوی کی غیر اسلامی الہامیت کے پیروکار ہیں اسی طرح مرزا قادیانی بھی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الٰہام کے پیروکار تھے۔
اعلیٰ حضرت و قدس سرہٗ اور شیخ الحدیث و فضیلۃ الشیخ اور مفتی اعظم قسم کی سینکڑوں مضحکہ خیز مخلوق اس خطہ میں پائی جاتی ہے۔
"انفاس العارفین" میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے تمام الہامات قرآن کریم کے خلاف غلیظ سازش اور کفر ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی شاہ ولی اللہ کے نظریہ الہام سے متاثر تھا اس لیے اس نے خود کو مجدد، مہدی اور مسیحا ہونے کا اعلان کیا۔
قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا
یہ عقیدہ واضح فتنہ انکار قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن اونٹ کے چمڑے، بڑی ہڈیوں، پتھروں یا کجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، اس عقیدہ کے تمام لوگ (صحاح ستہ مرتب کرنے والے - سلفی، اہل حدیث، دیوبند وغیرہ) منکر قرآن ہیں۔ .
تفاسیر کا جہنم.....
تنویر المقباس ( المعروف بہ فیروز آبادی) ، طبری ، مفاتیح الغیب، جلالین ، ابن کثیر ،
قرطبی، شاطبی، بغوی، زمخشیری ، سعدی وغیرہ وغیرہ کی تفاسیر یہودیوں کی کہانیوں اور القرآن کریم اور رسول کریم کے خلاف گھناؤنے پروپیگنڈا اور جرائم سے بھری پڑی ہیں۔
تمام مفسرین جیسے سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد ، احمد رضا خان بریلوی وغیرہ نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے ہزاروں افسانے لیے ہیں۔
دیوبندی اور سلفیوں کی تفسیر جہالت سے بڑھ کر ہیں ۔
حدیث ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہزاروں کوفی، بصری، بغدادی، خراسانی، ایرانی زہریلے سانپ چھپے ہوئے ہیں۔
اس جنگل میں ماہر شکاری کامیاب ہو سکتے ہیں۔
أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ۔
یہ روایت "فتنہ انکار قرآن" کی ابتدا ہے۔
اگر ابوحنیفه، مالک، شافعی، ابن حنبل، اوزاعی، زید، جعفر صادق اپنے پیروکاروں کو یہ نصیحت کریں کہ گدھے، خنزیر اور ہاتھی کا پاخانہ کھایا جائے تو کیا تمام دیوبندی، اہل حدیث، سلفی، شیعوں کو کھانا چاہیے؟ حمید الدین فراہی، امین احسن اصلاحی، سید مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، شفیع عثمانی، احمد رضا بریلوی ان غلیظ روایتوں کو کیسے منظور کر سکتے ہیں؟
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
جواب دیںحذف کریں